پردیس میں یوں عید گزارا میری امّاں
تھا کون یہاں اپنا میں جس سے گلے ملا
یاد وطن تھا اپنا میں اس سے گلے ملا
دن سو کے رات رو کے گزارا میری امّاں ....
موقع ملا تنہائی میں چپکے سے رو لیا
دیکھا.. کی کوئی دیکھےگا تو منھ دھو لیا
خود رو کے دیا خود کو سہارا میری امّاں....
یاد آیا صوبہ اٹھ کے وہ دالان سجانا
چادر بدلنا تکیے پی غلاف لگانا
بہنوں کا الصباح وہ چولہے کا جلانا
اور بھائیوں کا دوڑ کے وہ دودھ کا لانا
ہم سب کو غسل دے کے وو ابّا کا نہانا
وہ زاربند کا ڈھونڈھنا وہ عطر لگانا
یاد آیا کچہ دودھ چھوہارا میری امّاں....
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں