جمعرات، 13 اگست، 2015

احمد اشفاق کی غزل


انامنھ آنسووں سے دھو رہی ہے
: ضرورت سر بسجدہ ہو رہی ہے۔

مری دشمن مری بیباک گوئ :
مری راہوں میں کانٹے بو رہی ہے۔

زمانہ مصلحت پرور ہوا ہے :
ضرورت آدمیت کھو رہی ہے۔

کسی کی شخصیت مجروح کر دی :
زمانے بھر میں شہرت ہو رہی ہے۔

ستاروں سے کہو آہستہ بولیں :
مری راتوں کی وحشت سو رہی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں