انامنھ آنسووں سے دھو رہی ہے
: ضرورت سر بسجدہ ہو رہی ہے۔
مری دشمن مری بیباک گوئ :
مری راہوں میں کانٹے بو رہی ہے۔
زمانہ مصلحت پرور ہوا ہے :
ضرورت آدمیت کھو رہی ہے۔
کسی کی شخصیت مجروح کر دی :
زمانے بھر میں شہرت ہو رہی ہے۔
ستاروں سے کہو آہستہ بولیں :
مری راتوں کی وحشت سو رہی ہے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں