غزل سے پہلے ایک مطلع اور ایک شعر ملاحظہ فرمائیں
سوچتا ہوں مفاہمت کر لوں
پا بہ زنجیر مصلحت کر لوں
کاغذی پیرہن نہیں اپنا
میں جو دریا سے معذرت کر لوں
غزل کا مطلع پیش خدمت ہے
سنا ہے وہ فرشتہ ہو گیا ہے
بیچارہ کتنا تنہا ہو گیا ہے
جو تھا پتھر وہ شیشہ ہو گیا ہے
مرا قاتل مسیحا ہو گیا ہے
پرندے تو ہوئے آزاد لیکن
مقفل آب ودانہ ہو گیا ہے
زبانیں کاٹ دی ہیں مصلحت نے
ہمارا شہر گونگا ہو گیا ہے
چلے بھی آؤ کہ جینا ہے مشکل
ملے تم سے زمانہ ہو گیا ہے
نہیں خود جس کی جنت کا ٹھکانہ
وہی بہلول دانا ہو گیا ہے
لہو پینے لگا ہے آدمی کا
قلم بھی اب درندہ ہو گیا ہے
مرا بھائی نہ ہو گا قاتلوں میں
نظیر آںکھوں کو دھوکا ہو گیا ہے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں