جمعرات، 13 اگست، 2015

واحد نظیر کا کلاام

غزل سے پہلے ایک مطلع اور ایک شعر ملاحظہ فرمائیں

سوچتا ہوں مفاہمت کر لوں
پا بہ زنجیر مصلحت کر لوں
کاغذی    پیرہن    نہیں    اپنا
میں جو دریا سے معذرت کر لوں

غزل کا مطلع پیش خدمت ہے

سنا ہے وہ فرشتہ ہو گیا ہے
بیچارہ کتنا تنہا ہو گیا ہے

جو تھا پتھر وہ شیشہ ہو گیا ہے
مرا قاتل مسیحا ہو گیا ہے

پرندے تو ہوئے آزاد لیکن
مقفل آب ودانہ ہو گیا ہے

زبانیں کاٹ دی ہیں مصلحت نے
ہمارا شہر گونگا ہو گیا ہے

چلے بھی آؤ کہ جینا ہے مشکل
ملے تم سے زمانہ ہو گیا ہے

نہیں خود جس کی جنت کا ٹھکانہ
وہی بہلول دانا ہو گیا ہے

لہو پینے لگا ہے آدمی کا
قلم بھی اب درندہ ہو گیا ہے

مرا بھائی نہ ہو گا قاتلوں میں
نظیر آںکھوں کو دھوکا ہو گیا ہے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں