مجهے ہجر میں جب مزا ملے، مجهے کیوں طلب ہو وصال کا،
میرا غیر - غیر کوئی نہیں، میرا یار - یار کوئی تو ہو...
مجهے زندگی نے سزا دیا، مجهے عاشقی نے دغا دیا،
صف_دشمناں ہیں یہاں وہاں، میرا جاں نثار کوئی تو ہو...
تیرے عاشقوں کی کمی نہیں، میرے دشمنوں کی کمی نہیں،
میں نہیں تیرا نہ سہی تیرا، تیرا اعتبار کوئی تو ہو...
یہاں تیر بهی ہے کماں بهی ہے، یہاں دل بهی ہے اور نظر بهی ہے،
ہیں بهت سے تیر یہاں نیم کش، یہاں آر پار کوئی تو ہو...
تیری دهڑکنیں ہیں عزیز تر، میری دل کی دهڑکن ہے خاک تر،
چلو تم رہو یہاں معتبر، یہاں تار-تار کوئی تو ہو...
جمعرات، 13 اگست، 2015
اسامہ عقیل کی غزل
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں