جمعرات، 13 اگست، 2015

انعام عازمی کی غزل

یہ جو آنکھوں میں خواب ہے جاناں
سچ کہوں تو عزاب ہے جاناں
زندگی کچھ نہیں مگر غم کا
اک مکمل نصاب ہے جاناں
اپنے ہونے کا بھی گمان نہیں
حال اتنا خراب ہے جاناں
جسم میں خون اب بچا ہی نہیں
اب تو جو ہے شراب ہے جاناں
پیار چاہت وفا کے بدلے میں
کچھ نہیں ہے سراب ہے جاناں
کتنے ٹکروں میں بٹ گیا ہوں میں
تم کو اس کا حساب ہے جاناں
کون ہوں میں سوال ہے گر تو
کون ہو تم جواب ہے جاناں

انعام عازمی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں