قسم خدا کی تو آنکھوں کو اشک بار نەکر
کبھی میی آونگا لیکن تو انتظار نە کر
اجاڑنے میی گلستاں کا ھاتھ ھے کس کا
یە مجھ سے پوچھ کر اپنے کو شرم شار نەکر
دلوں کے فاصلے بڑھتے رھے قیامت تک
روش زمانے میی ایسی تو اختیار نە کر
ھر ایک در پە چھوکانے سے ھو گا کیا حاصل
جبیی کو ذلت پیھم سے داغدار نە کر
وە جس کے خون کی لالی ھے لالە زاروں میی
اسی کو حکم ھے تو خواھش بھار نە کر
لگی ھے آگ جو شبنم وە بجھ نە پائیگی
بھا کے اشک تو اپنے کو باوقار نە کر
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں