جمعرات، 13 اگست، 2015

رضوان احمد کی غزل

قسم خدا کی تو آنکھوں کو اشک بار نەکر
کبھی میی آونگا لیکن تو انتظار نە کر
اجاڑنے میی گلستاں کا ھاتھ ھے کس کا
یە مجھ سے پوچھ کر اپنے کو شرم شار نەکر
دلوں کے فاصلے بڑھتے رھے قیامت تک
روش زمانے میی ایسی تو اختیار نە کر
ھر ایک در پە چھوکانے سے ھو گا کیا حاصل
جبیی کو ذلت پیھم سے داغدار نە کر
وە جس کے خون کی لالی ھے لالە زاروں میی
اسی کو حکم ھے تو خواھش بھار نە کر
لگی ھے آگ جو شبنم وە بجھ نە پائیگی
بھا کے اشک تو اپنے کو باوقار نە کر

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں