جمعرات، 13 اگست، 2015

کامران غنی صاحب کی غزل

کس قدر ہم سے بے رخی ہوگی
صاف کہہ دیجیے خوشی ہوگی
اک طرف بحر بیکراں ہوگا
اک طرف میری تشنگی ہوگی
آمد صبح کی نوید ہے یہ
گیسوئے شب میں برہمی ہوگی
زخم تونے دئیے جو مرحم ہیں
موت آئی تو زندگی ہوگی
خوں جلے گا مرا چراغوں میں
آج مقتل میں روشنی ہوگی
تجھ سے ترک تعلقات کے بعد
تیری یادوں سے دوستی ہوگی
ہجر معراج عاشقی ہے صبا
شب فرقت میں بندگی ہوگی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں