کس قدر ہم سے بے رخی ہوگی
صاف کہہ دیجیے خوشی ہوگی
اک طرف بحر بیکراں ہوگا
اک طرف میری تشنگی ہوگی
آمد صبح کی نوید ہے یہ
گیسوئے شب میں برہمی ہوگی
زخم تونے دئیے جو مرحم ہیں
موت آئی تو زندگی ہوگی
خوں جلے گا مرا چراغوں میں
آج مقتل میں روشنی ہوگی
تجھ سے ترک تعلقات کے بعد
تیری یادوں سے دوستی ہوگی
ہجر معراج عاشقی ہے صبا
شب فرقت میں بندگی ہوگی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں