نعت
مدینے کی گلیوں میں گھر چاہتا ہوں
وہ روضئہ اقدس کا در چاہتا ہوں
کہیں دل مرا اب یہ لگتا نہیں
مدینے کی شام و سحر چاہتا ہوں
مری مشکلیں ساری ہو جائیں آساں
کرم آپ کا سر بسر چاہتا ہوں
کہیں اور جانے کی حسرت نہیں ہے
مدینے کا اب میں سفر چاہتا ہوں
جو دل میں ہے میرے وہ آ جائے لب پر
دعاؤں میں اصغر اثر چاہتا ہوں
اصغر شمیم، کولکاتہ، مغربی بنگال
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں