نعتیہ غزل
نور الہدی' ، مبشر و طہہ' حضور ہیں
گویا کلام ِ پاک سراپا حضور ہیں
چارہ گرو عبث نہ کرو وقت رائیگاں
یہ درد وہ ہے جس کا مداوا حضور ہیں
دنیائے آخرت جو ہماری سنوار دے
وہ مشعلِ ہدایت ِ دنیا حضور ہیں
کس طرح بیڑا پار لگائے گا کوئی اور
جب ناخدائے کشتیء عقبی' حضور ہیں
فردوس کو بھی رشک ہے طیبہ کے بخت پر
کیوں کر نہ ہو کہ شاہ ِ مدینہ حضور ہیں
دشمن سے بھی ہے رحم و کرم کا معاملہ
خیرالبشر ہیں فاتح ِ مکّہ حضور ہیں
اک بار دیکھ لیں انھیں دنیائے خواب میں
آنکھوں کی پتلیوں کی تمنّا حضور ہیں
راغب رکھیں گے لاج وہ اپنے غلام کی
محشر میں مومنوں کا سہارا حضور ہیں
افتخار راغب
دوحہ قطر
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں