نعت
پروفیسر طرزی، دربھنگہ
متاع چشمِ مشتاقاں ترے روضے کی جالی ہے
مری تسکیں کا ہر ساماں ترے روضے کی جالی ہے
مرے قلب و نظر کے گوشے گوشے ہو گئے روشن
بلاشبہ مہ تاباں ترے روضے کی جالی ہے
ترے در کی حضوری ہے شہنشاہی سے افضل تر
نگاہِ شوق کا قرآں ترے روضے کی جالی ہے
میں اپنے ہاتھ کی ان انگلیوں پر رشک کرتا ہوں
ہیں جن کو چھو کے یہ ذیشاں ترے روضے کی جالی ہے
میں سارے رنج و غم اپنے یہاں پر بھول بیٹھا ہوں
مرے ہر درد کا درماں ترے روضے کی جالی ہے
مجھے ہے روزِ محشر کامیابی کے لئے کافی
کہ دل میں صورتِ مہماں ترے روضے کی جالی ہے
تمنا دل میں اب طرزی کے نہیں ہے اب کوئی باقی
مٹائے جس نے سب ارماں ترے روضے کی جالی ہے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں