نعت
مرغوب اثر فاطمی
خاتم ہیں مرسلین کے شاہہ ہیں آپ ہی
اُس جانِ آفرین کا جلوہ ہیں آپ ہی
جاتا ہے ذہن بارہا لولاک کی طرف
تخلیق دو جہاں کا بہانہ ہیں آپ ہی
ارض و سما میں پھیلی ہے سیرت کی روشنی
کیونکر نہ ہو کہ نور کا چشمہ ہیں آپ ہی
ہم تو نہ جانتے تھے کہ اللہ کون ہے
وحدت کے داعی، وجہ صحیفہ ہیں آپ ہی
برحق ہے قم بہ اذنِ الٰہی کا معجزہ
اقوام منتشر کے مسیحا ہیں آپ ہی
اس قلزم حیات میں تنہا نہیں کوئی
اللہ ناخدا ہے سفینہ ہیں آپ ہی
بے شک ہے زخم خوردہ ابھی قوم کلمہ گو
صابر ہے اس یقیں پہ مداوا ہیں آپ ہی
آمد سے جن کی ساری خدائی ہے مستفیض
طیب بھی اور طاہر و طہٰ ہیں آپ ہی
صد شکر نعت گوئی کی شد بد کے زور پر
لکھّے اثر، محرک خامہ ہیں آپ ہی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں