نعت پاک
شہاب ظفر اعظمی
یہ قمر یہ اس کی ضیا ہے کیا؟ تری جستجو یہ فضول ہے
یہ جو کہکشاں میں ہے روشنی یہ بھی خاکِ پائے رسول ہے
جو حصول حق میں فنا ہوئی، جو نبی کے عشق میں مٹ گئی
وہی جان جانِ بہار ہے، وہی قلب خلد کا پھول ہے
یہ نماز طاعتِ کبریا، مرے مصطفےٰ کا ہے آئینہ
کہیں اس میں حکمِ رحیم ہے تو کہیں ادائے رسول ہے
ترا نام وردِ زباں رہے، تری یاد زیب جناں رہے
ترے ذکر میں ہی فنا رہوں یہی عاشقی کا اصول ہے
تری یاد سے ہی نیاز ہے، تری یاد میں ہی نماز ہے
” جہاں تیری یاد ہے دلنشیں وہیں رحمتوں کا نزول ہے۔ “
جسے انقلاب نہ چھو سکا جو بنائے مہرو وفا رہا
وہی دین پاک عظیم ہے ، وہی تو پیام رسول ہے
ہے ظفر کی عرض یہ مصطفےٰ کہ دکھا دو اس کو وہ در شہا
جہاں قدسیوں کا ہجوم ہے جہاں رحمتوں کا نزول ہے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں