دواشعار
نہ دیکھوں بھول کر بھی میں کبھی منھ غیر کے در کا
اگر ملتا رہے سرکار ٹکڑا آپ کے در کا
لحد میں تم ہی مجھ کو مل گئے تو فکر پھر کیسی
مجھے سونے دو قدموں میں تھکا ہوں زندگی بھر کا
نعت پاک
سکوں ہو دھڑکنوں کے شورسے سانسوں سے فرصت ہو
جو میری روح میں روشن تری شمع محبت ہو
تمہارا نام لے کر پھول کھلتے ہیں گلستاں میں
بلائیں چاند لیتا ہے تم اتنے خوبصورت ہو
کسی دن آپ آجائیں مرے آقا خیالوں میں
میں یوں نعت نبی لکھوں کہ لفظوں کو بھی حیرت ہو
اگر منھ پھیر لو تو خلد بھی ویران ہو جائے
جہاں تیری نظر ٹھہرے جگہ وہ رشک جنت ہو
وہاں ذروں میں بھی ہیں زیست کی رعنائیاں چشتی
مدینے میں وہ مر جائے جسے جینے کی حسرت ہو
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں