نعت رسول صلی اللہ علیہ و سلم
عشق احمد میں کسی کی جاں اگر قربان ہے
کیا بتائیں کس قدر خوش بخت وہ انسان ہے
منزلیں خود چومتی ہیں ان کے قدموں کے نشاں
جن کے ہاتھوں میں نبی کی سنت و قرآن ہے
پڑھ اٹھا پتھر بھی کلمہ چاند بھی ٹکڑا ہوا
دیکھ لو اے دشمنو ! محبوب کی یہ شان ہے
کفر ٹوٹا، شرک چھوٹا، نور حق روشن ہوا
عالم انسانیت پر آپ کا احسان ہے
نفرتوں کی آندھیاں چلتی ہیں چلنے دے مگر
کر فروزاں تو چراغ حق یہی فرمان ہے
ان کے قدموں پہ رہے سر اٹھ نہ پائے پھر کبھی
ہر گھڑی منصور کے دل میں یہی ارمان ہے
منصور قاسمی ، ریاض سعودی عرب
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں