جمعرات، 24 دسمبر، 2015

ایم آر چشتی کا اظہار تشکر

آج دشمنان اسلام یہ دیکھ رہے ہیں کہ ہم سبھی مسلمان کس طرح اپنے آقا کی پیدائش کی خوشی منا رہے ہیں.  بغیر کسی تفریق کے آج ہم سب ایک پلیٹ فارم پر جمع ہیں.  کس میں اتنی ہمت ہے کہ ہمارے درمیان انتشار پھیلا سکے.  ہم بھلے ہی بہت برے ہیں مگر جب اپنے آقا کی عظمت پر کوئی حرف آتا ہے تو ہمارا جذبہ ایمانی جاگ جاتا ہے اور تقدس رسالت پہ قربان ہونے کو بے چین ہو جاتے ہیں.

واقعی آج کا مشاعرہ بہت کامیاب رہا.  ایک طرف جہاں ہم درود پاک کے گلدستے اپنے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کر کے اپنی خالی جھولی کو ثوابوں سے بھر  رہے تھے وہیں مسلم اتحاد کا پرچم لہرا کر دنیا کو بتا رہے تھے کہ ہم نبی کے دیوانے ایک تھے ایک ہیں اور ایک رہیں گے.

اس کامیاب مشاعرہ کے انعقاد کے لئے صدر محترم ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں.  ساتھ ہی کامیاب نظامت کے لئے عزیزان گرامی جناب جہانگیر نایاب صاحب اور جناب عامر نظر صاحب کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں

پروفیسر شہاب ظفر صاحب کا صدارتی کلمات

ذی وقار شعرائے کرام اور معزز سامعین عظام،

عید میلاد النبی ﷺ مبارک!

میں ایک خوب صورت اور معیاری بین الاقوامی نعتیہ مشاعرے کی تکمیل پر آپ سب کو بہت بہت مبارکباد پیش کرتا ہوں۔آپ نے بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں پر جوش خراجِ عقیدت پیش کر کے نہ صرف حب نبوی کا اظہار کیا بلکہ ’بزم غزل‘ کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ بھی کیا۔ یہ نہایت فخر و انبساط کی بات ہے کہ صرف پانچ ماہ کے قلیل عرصے میں ’بزم غزل‘ نے کئی منزلیں طئے کر لی ہیں اور اس کی ہر منزل ایک نشان راہ ثابت ہو رہی ہے۔اردو زبان اور شاعری کے فروغ کی تاریخ جب بھی نئے سرے سے مرتب کی جائے گی مجھے یقین ہے کہ مورخ ’بزم غزل‘ اور اس کی سرگرمیوں کو فراموش نہیں کر سکے گا۔

     حضرات! ربیع الاول کا مہینہ قمری سال کا وہ تیسرا مہینہ ہے جس سے انسانیت کی باد بہاری چلی۔اِس کی آمد انسان کے شرف و اعزاز اور انسانیت کے عز و افتخار کی یاد دلاتی ہے۔ محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری رواں دواں قافلہ انسانیت کے لئے مینارہ نور بنی، جس کی روشنی میں انسانی قافلہ چلتا رہے گا۔”انک لعلیٰ خلق عظیم“ اور ”وما ارسلنک الا رحمة للعالمین“ کے صفات سے متصف ہمارے نبی کی پوری زندگی عفو و درگزر، رحم و کرم اور شفقت و دلداری کی آئینہ دار ہے۔آپ ﷺ صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ سارے جہان کے لئے رحمت ہیں۔ اسی لئے قرآن کریم نے آپ کو بنی نوع انسانیت کے لئے رحمت اللعالمین بتایا ہے اور پھر آپ کو ساری انسانیت کے لئے قابل تقلید نمونہ قرار دیتا ہے۔مگر افسوس کہ ہم نے سب سے مکمل اور کامل نمونئہ حیات کی طرف سے صرف نظر کر لی ہے۔ آج جبکہ ساری دنیا میں میلاد النبی کا جشن منایا جا رہا ہے اور ان کی یاد میں شعری و نثری محفلیں آراستہ ہو رہی ہیں کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ اس کے ساتھ ساتھ ہم اپنے خلوت خانہ قلب میں بھی کچھ دیر کے لئے ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محفل گرم کریں اور عہد کریں کہ محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کے نظام حیات کو اپنے سینوں سے لگائیں گے۔ یہی اصل ایمان ہے اور اسی میں فلاح و نجات ہے 

قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے

دہر میں نام محمد سے اجالا کر دے

       میں اس خوب صورت نعتیہ مشاعرے کے انعقاد کے لئے تمام اراکین ”بزم غزل“ کا شکریہ ادا کرتا ہوں بالخصوص اس کے بنیاد گزار جناب ایم آر چشتی، محترم احمد اشفاق، ڈاکٹر منصور خوشتراور میرے بہت عزیز کامران غنی صبا کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے اس بابرکت محفل کے لئے مجھ جیسے گنہ گار کو عہدہ صدارت کا اعزاز عطا کیا۔ اللہ انہیں زندگی میں ہمیشہ خوش اور کامران رکھے۔

شہاب ظفر اعظمی

نیو عظیم آباد کالونی، پٹنہ(بہار)

جناب شہاب ظفر اعظمی کی نعت پاک

نعت پاک

شہاب ظفر اعظمی

یہ قمر یہ اس کی ضیا ہے کیا؟ تری جستجو یہ فضول ہے

یہ جو کہکشاں میں ہے روشنی یہ بھی خاکِ پائے رسول ہے

جو حصول حق میں فنا ہوئی، جو نبی کے عشق میں مٹ گئی

وہی جان جانِ بہار ہے، وہی قلب خلد کا پھول ہے

یہ نماز طاعتِ کبریا، مرے مصطفےٰ کا ہے آئینہ

کہیں اس میں حکمِ رحیم ہے تو کہیں ادائے رسول ہے

ترا نام وردِ زباں رہے، تری یاد زیب جناں رہے

ترے ذکر میں ہی فنا رہوں یہی عاشقی کا اصول ہے

تری یاد سے ہی نیاز ہے، تری یاد میں ہی نماز ہے

”   جہاں تیری یاد ہے دلنشیں وہیں رحمتوں کا نزول ہے۔ “

جسے انقلاب نہ چھو سکا جو بنائے مہرو وفا رہا

وہی دین پاک عظیم ہے ، وہی تو پیام رسول ہے

ہے ظفر کی عرض یہ مصطفےٰ کہ دکھا دو اس کو وہ در شہا

جہاں قدسیوں کا ہجوم ہے جہاں رحمتوں کا نزول ہے

جناب اسرائیل رضا صاحب کی نعتیہ شاعری

نعت پاک
اسرائیل رضا
شہر طیبہ کی جانب دیوانے چلے                                         جو تمنا  ہے دل  میں مٹانے  چلے
بارگاہ محمد کے سب ہیں گدا                                              ہم نصیبہ بهی اپنا جگانے چلے
کوئ کچهہ بهی کہےاورکہتا رہے                                         جشن  یوم  محمد(ص) منانے چلے
اپنے آقا کے درکا گداگر ہیں ہم                                          حال دل مصطفی کوسنانے چلے
شہر طیبہ میں انوار کی بارشیں                                          ہم بهی دل اپنا اب جگمگانےچلے
دل ، مدینہ، مدینہ ، مدینہ  ہوا                                                   نعت اپنی رضاجب سنانے چلے

جناب اسرائیل رضا صاحب کی نعتیہ شاعری

نعت پاک
اسرائیل رضا
شہر طیبہ کی جانب دیوانے چلے                                         جو تمنا  ہے دل  میں مٹانے  چلے
بارگاہ محمد کے سب ہیں گدا                                              ہم نصیبہ بهی اپنا جگانے چلے
کوئ کچهہ بهی کہےاورکہتا رہے                                         جشن  یوم  محمد(ص) منانے چلے
اپنے آقا کے درکا گداگر ہیں ہم                                          حال دل مصطفی کوسنانے چلے
شہر طیبہ میں انوار کی بارشیں                                          ہم بهی دل اپنا اب جگمگانےچلے
دل ، مدینہ، مدینہ ، مدینہ  ہوا                                                   نعت اپنی رضاجب سنانے چلے

جناب ایم آر چشتی کا کلام

����دواشعار ����

نہ دیکھوں بھول کر بھی میں کبھی منھ غیر کے در کا
اگر ملتا رہے سرکار ٹکڑا آپ کے در کا
لحد میں تم ہی مجھ کو مل گئے تو فکر پھر کیسی
مجھے سونے دو قدموں میں تھکا ہوں زندگی بھر کا

������نعت پاک ������

سکوں ہو دھڑکنوں کے شورسے سانسوں سے فرصت ہو
جو میری روح میں روشن تری شمع محبت ہو

تمہارا نام لے کر پھول کھلتے ہیں گلستاں میں
بلائیں چاند لیتا ہے تم اتنے خوبصورت ہو

کسی دن آپ آجائیں مرے آقا خیالوں میں
میں یوں نعت نبی لکھوں کہ لفظوں کو بھی حیرت ہو

اگر منھ پھیر لو تو خلد بھی ویران ہو جائے
جہاں تیری نظر ٹھہرے جگہ وہ رشک جنت ہو

وہاں ذروں میں بھی ہیں زیست کی رعنائیاں چشتی
مدینے میں وہ مر جائے جسے جینے کی حسرت ہو

جناب مرغوب اثر فاطمی کا کلام

نعت

مرغوب اثر فاطمی

خاتم ہیں مرسلین کے شاہہ ہیں آپ ہی

اُس جانِ آفرین کا جلوہ ہیں آپ ہی

جاتا ہے ذہن بارہا لولاک کی طرف

تخلیق دو جہاں کا بہانہ ہیں آپ ہی

ارض و سما میں پھیلی ہے سیرت کی روشنی

کیونکر نہ ہو کہ نور کا چشمہ ہیں آپ ہی

ہم تو نہ جانتے تھے کہ اللہ کون ہے

وحدت کے داعی، وجہ صحیفہ ہیں آپ ہی

برحق ہے قم بہ اذنِ الٰہی کا معجزہ

اقوام منتشر کے مسیحا ہیں آپ ہی

اس قلزم حیات میں تنہا نہیں کوئی

اللہ ناخدا ہے سفینہ ہیں آپ ہی

بے شک ہے زخم خوردہ ابھی قوم کلمہ گو

صابر ہے اس یقیں پہ مداوا ہیں آپ ہی

آمد سے جن کی ساری خدائی ہے مستفیض

طیب بھی اور طاہر و طہٰ ہیں آپ ہی

صد شکر نعت گوئی کی شد بد کے زور پر

لکھّے اثر، محرک خامہ ہیں آپ ہی

پروفیسر عبدالحنان صاحب کی نعت پاک

............. نعت پاک...............

اگر دیکھی محمدۖ تو نبوت آپکی دیکھی                              کرم دیکھا'عمل دیکھا' مثالی زندگی دیکھی

نہ اس نے غم ھی دیکھاھے'نہ اس نے تیرگی دیکھی
کلام پاک کی جس نے ذرا بھی روشنی دیکھی

عقیدت کھہ رھی ھے آج اسکی چوم لوں آنکھیں
کہ جس نے گنبد خضرا پہ چھائ چاندنی دیکھی

یھاں سے مانگنے والا کبھی خالی نھیں لوٹا
اگر دیکھی تو بندے کی عقیدت میں کمی دیکھی      

نہ ھو مایوس اے انساں زیارت یوں بھی ھوتی ھے  
  اسیکو دیکھ لے جس نے مدینے کی گلی دیکھی........!!

جہانگیر نایاب قاحب کا کلام

نعتِ پاک

ہوا   پارینہ   قصّہ   دوستو !   دورِ  جہالت کا
خدا نے   تاج   جب  سرکار  کو بخشا نبوت کا

رسالت کا ہوا خورشید روشن جب  زمانے میں
اندھیرا خودبخور ہی مٹ گیا کفرو ضلالت کا

خود  اپنے  آپ  ہی  کردار  کو ہم نے کیا  پامال
"ہماری سیرتوں میں ہےکوئی رنگ انکی سیرت کا"

دوردِ  پاک  کی  ڈالی  نچھاور  ہر گھڑی کر تُو
خدا دے گا تجھے بدلہ نبی سے سچّی الفت کا

نچھاور ہم نبی پر جاں صحابہ کی طرح کر دیں
زمانہ  پھر  پلٹ   آئے    وہی  فہم وفراصت  کا

کبھی مخصوص تھاجوکام نبیوں کے لیے نایاب
غلامِ  مصطفیٰ  کرتا  وہی  ہے  کام    دعوت  کا

                                            جہانگیرنایاب

نصر بلخی صاحب کی نعتیہ شاعری

نصر الدین بلخی نصر

عالم گنج، پٹنہ

نعت شریف

جو پائے احمد مرسل پہ اپنا سر ہوتا

یہ قصرو در ہی نہیں زیر ِ بحر و بر ہوتا

یہ جسم و جان لہو ہوتا خوں میں تر ہوتا

کٹے جو عشق محمدﷺ میں وہ جگر ہوتا

وہ چوم لیتے شب غم میں اشکِ فرقت کو

مرے خدا مرے نالوں میں وہ اثر ہوتا

تمہارے خلق کا حاصل بنا ہے سارا وجود

نہ آسمان و زمیں اور نہ خشک و تر ہوتا

تمہارے ہجر کا صدمہ عذاب ِ جان بنا

خوشا نصیب مدینے کا اک سفر ہوتا

تمام دولتِ دنیا حقیر تر لگتی

تمہارے در کا گدا کاش کہ نصر ہوتا

رابطہ:9905055746

معروف شاعر اغتخار راغب کی نعت شریف

������������

��  نعتیہ غزل ��

نور الہدی' ، مبشر  و طہہ' حضور ہیں
گویا  کلام ِ پاک سراپا حضور ہیں
   ��������
چارہ گرو عبث نہ کرو وقت رائیگاں
یہ درد وہ ہے جس کا مداوا حضور ہیں
     ��������
دنیائے آخرت جو ہماری سنوار دے
وہ مشعلِ ہدایت ِ دنیا حضور ہیں
   ��������
کس طرح بیڑا پار لگائے گا کوئی اور
جب ناخدائے کشتیء عقبی' حضور ہیں
    ��������
فردوس کو بھی رشک ہے طیبہ کے بخت پر
کیوں کر نہ ہو کہ شاہ ِ مدینہ حضور ہیں
    ��������
دشمن سے بھی ہے رحم و کرم کا معاملہ
خیرالبشر ہیں فاتح ِ مکّہ حضور ہیں
    ��������
اک بار دیکھ لیں انھیں دنیائے خواب میں
آنکھوں کی پتلیوں کی تمنّا حضور ہیں
    ��������
راغب رکھیں گے لاج وہ اپنے غلام کی
محشر میں مومنوں کا سہارا حضور ہیں

��   افتخار راغب
دوحہ قطر ��������

منصور قاسمی صاحب کی نعتیہ شاعری

نعت رسول صلی اللہ علیہ و سلم

عشق احمد میں کسی کی جاں اگر قربان ہے
کیا بتائیں کس قدر خوش بخت وہ انسان ہے

منزلیں خود چومتی ہیں ان کے قدموں کے نشاں
جن کے ہاتھوں میں نبی کی سنت و قرآن ہے

پڑھ اٹھا پتھر بھی کلمہ چاند بھی ٹکڑا ہوا
دیکھ لو اے دشمنو ! محبوب کی یہ شان ہے

کفر ٹوٹا، شرک چھوٹا، نور حق روشن ہوا
عالم انسانیت پر آپ کا احسان ہے

نفرتوں کی آندھیاں چلتی ہیں چلنے دے مگر
کر فروزاں تو چراغ حق  یہی فرمان ہے

ان کے قدموں پہ رہے سر اٹھ نہ پائے پھر کبھی
ہر گھڑی منصور کے دل میں یہی ارمان ہے

منصور قاسمی ، ریاض سعودی عرب

نوجوان شاعر عامر نظر کی نعت پاک

درِ محبوب کے صدقے کرم اتنا خدا کرنا
مدینے کی گلی میں جسم سے سانسیں جدا کرنا

نہیں یہ ہو نہیں سکتا کسی پر آسرا کرنا
غلامِ مصطفیٰؐ ہیں جانتے ہیں دل فدا کرنا

اشاروں سے فلک پر چاند جب ٹکڑوں میں بٹ جائے
یہی شانِ رسالت ہے نبیؐ کا معجزہ کرنا

زمیں کو ناز ہے اس نے لیا ہے پاؤں کا بوسہ
شہنشاہِ مدینہ کچھ ہمیں بھی تو عطا کرنا

تری دہلیز سے اٹھ کر کہاں جائیں گے ہم عامرؔ
خدا کے واسطے ہم پر کرم یا مجتبیٰؐ کرنا

عامرؔ نظر

جناب کامران غنی صبا کا معیاری کلام

نعت

کامران غنی صبا

لب    پہ    ذکرِ    حبیبِ    خدا   چاہیے

کچھ نہیں ، کچھ نہیں ، ما سوا چاہیے

دید  کو   ان   کی  چشمِ   رسا چاہیے

زہد  و  تقوے  سے  کچھ  ماورا چاہیے

سجدئہ    شوق   کو   اور   کیا  چاہیے

اپنے     محبوب   کا   نقشِ   پا  چاہیے

ہم   کو   نعتِ   نبی   کا   سلیقہ کہاں؟

بس   شفاعت  کا   اک   واسطہ چاہیے

 ہجر   میں   دل   پریشان  ہے یا  خدا

خواب  میں   روضئہ   مصطفےٰ چاہیے

زاہدوں  کو  مبارک   ہوں   حور و ملک

ہم    کو   دیدِ    شہہ   انبیا چاہیے

جام   کبر   و   ریا   توڑ   ہی ڈالیے

گر   مئے    عشق   و   مہر  و وفا چاہیے

کاش   ایسا ہو میدان محشر میں وہ

پوچھ لیں ائے صبا تجھ کو کیا چاہیے

جناب اصغر شمیم صاحب کا کلام

نعت

مدینے کی گلیوں میں گھر چاہتا ہوں
وہ روضئہ اقدس  کا در چاہتا ہوں

کہیں دل مرا اب یہ لگتا نہیں
مدینے کی شام و سحر چاہتا ہوں

مری مشکلیں ساری ہو جائیں آساں
کرم آپ کا سر بسر چاہتا ہوں

کہیں اور جانے کی حسرت نہیں ہے
مدینے کا اب میں سفر چاہتا ہوں

جو دل میں ہے میرے وہ آ جائے لب پر
دعاؤں میں اصغر اثر چاہتا ہوں

اصغر شمیم، کولکاتہ، مغربی بنگال

جناب واحد نظیر صاحب کی نعت شریف

نعت پاک
نادم ہیں، شرمسارہیں اپنی خطا پہ ہم
قانع بھی رہ نہ پائے نبی کی رضاپہ ہم

والشمس و والضحیٰ کی ضیا ہے نگاہ میں
حاوی رہے ہیں وقت کی کالی گھٹا پہ ہم
                      ق
ایسی کہاں بساط ، لکھیں نعتِ مصطفیٰ
قادر کہاں ہیں قدرتِ حرف ونوا پہ ہم
ایمان  اپنا  آیتِ  لاتقنطوا  پہ  ہے
مولیٰ بھروسہ رکھتےہیں تیری عطا پہ ہم

ممکن نہیں کہ ٹھہریں حساب و کتاب میں
رکھتے  ہیں  آس  شافعِ روزِ جزا پہ ہم

اے جاں فزا ، فضائےمدینہ تجھے سلام
مصرع یہ روز لکھتے ہیں دوشِ صبا پہ ہم

نظروں میں ہو نظیر کی  مولیٰ یہ نظارہ
لب پر ہو نعت اور ہوں درِ مصطفیٰ پہ ہم

سبھاش پاٹھک صاحب کے نعتیہ اشعار

Chand ashaar-
Uske dam se ye jaha'n hai,
Wo zami'n hai aasma'n hai,
@
Koee shay uski rahmat se  khalee  nahi'n,
Rang foolo'n me'n hai chaand me'n noor hai
@
Bikharna hai har  shay ko ik din yaqinan,
Koee javida'n hai to bas wo khuda hai,
@
Usko mahsoos karta hai ye dil,
Fool titlee shajar hawao'n me'n,
@
Uski rahmat ka hee nazara hai,
Fool patthar me'n yoo'n khila hona,
      Subhash patak'zia'
चन्द अश्आर
उसके दम से ये जहां है,
वो ज़मीं  है  आसमां  है,
@
कोई शय उसकी रहमत से खाली नहीं,
रंग  फूलों  में  है  चांद  में   नूर है,
@
बिखरना है हर शय को इक दिन यक़ीनन,
कोई   जाविदां  है तो  बस वो ख़ुदा  है,
@
उसको महसूस करता है ये दिल,
फूल  तितली  शजर  हवाओं  में,
@
उसकी रहमत का ही नज़ारा है,
फूल पत्थर में यूं खिला होना,
           सुभाष पाठक'ज़िया'

عقیدت و محبت سے لبریز انعام عازمی کی نعتیہ شاعری

ﻧﺒﯽ ﻣﺨﺘﺎﺭ ﮐﻞ ﭨﮭﮩﺮﮮ ﺣﺒﯿﺐ ﺩﻭﺟﮩﺎﮞ ٹھہرے
ﺍﻧﮭﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﻮ ﺑﻮﻟﻮ ﺗﻢ ﮐﮩﺎﮞ ﭨﮭﮩﺮﮮ

ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﻭ ﻋﺮﺵ ﭘﺮ ﭨﮭﮩﺮﺍ
ﻣﺤﻤﺪ ﻣﺼﻄﻔٰﮯ ﯾﻌﻨﯽ ﻣﮑﯿﻦ ﻻ ﻣﮑﺎﮞ ﭨﮭﮩﺮﮮ

ﺍﻧﮭﯿﮟ ﮨﮯ ﻓﮑﺮ ﻣﺤﺸﺮ ﮐﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺣﺎﻣﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﻦ ﮐﺎ
ﮨﻤﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﻓﮑﺮ ﻣﺤﺸﺮ ﮨﻮ ﺟﺐ ﺁﻗﺎ ﻣﮩﺮﺑﺎﮞ ﭨﮭﮩﺮﮮ

نہیں ہے کوئی ان جیسا خدا کے دونوں عالم میں
جو سب مثل زمیں ٹھہرے وہ مثل آسماں ٹھہرے

بروز حشر مل کر سب پکارینگے تمہیں آقا
کہ تم محبوب رب ٹھہرے پناہ بے کساں ٹھہرے

نہیں جاتا ہے خالی ہاتھ کوئی آپ کے درسے
کہ ہم پیاسوں کی خاطر آپ بحر بیکراں ٹھہرے

کرے تیری ثنا خوانی کہاں انعام اس لائق
ترا رتبہ بہت ہی دور از وہم و گماں ٹھہرے

ﺍﻧﻌﺎﻡ ﻋﺎﺯﻣﯽ

نور جمشیدپوری صاحبہ کا کلام

سر عقیدت سے مدینے میں جھکانے آئے
حالِ دل ہم تو محمدؐ  کو سنانے آئے
،،،،،،
دل کو محسوس ہو امیرے مدینے آکر
رب کی رحمت کے مرے ہاتھ خزانے آئے
،،،،،،،،
روز و شب بہتا یہاں فیض کا دریا ہم بھی
اشک آنکھوں سے ندامت کے بہانے آئے
،،،،،،،
در پے آقا کے لو پیشانی رگڑ کر اپنی
ہم بھی قسمت میں کئی تارے سجانے آئے
،،،،،،،
آرزو کوئی تمنا نہیں باقی اب تو
دل جگر جان مدینے میں لٹانے آئے
،،،،،،
پھول جنت کے برستے ہیں یہاں شام و سحر
بخت اپنا بھی انہیں گل سے سجانے آئے
،،،،،،،،،
شاہِ کونین کا لے کر کے سہارا یارو
ڈوبتی ناؤ کو ہم پار لگانے  آئے
،،،،،،
نور نظروں کا بڑھا دے گا مقدس سرمہ
خاک طیبہ کو ھم آنکھوں سے لگانے آئے
نور جمشید پوری

احمد علی صاحب کی نعت پاک

دیکھوں میں جب بھی خواب میں روضہ رسول کا
لکھتا ہوں اک نیا میں قصیدہ رسول کا
देखूँ मैं जब भी ख़ाब में रौज़ा रसूल का
लिखता हूँ इक नया मैं क़सीदा रसूल का
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل چاہتا ہے میرا اجازت اگر ملے
محشر میں بھی سناؤں ترانہ رسول کا
दिल चाहता है मेरा इजाज़त अगर मिले
महशर में भी सुनाऊँ क़सीदा  रसूल का

۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عاصی ہوں میں بجا مرے اعمال ہیچ ہیں
ہے آسرا فقط مرا کلمہ رسول کا
आसी हूँ मैं बजा मिरे आमाल हेच हैं
है आसरा फ़क़त मिरा कलमा रसूल का
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حجاج آ رہے ہیں تو عشاق جا رہے
چلتا ہے سال بھر ہی سفینہ رسول کا
हुज्जाज आरहे हैं तो उशशाक़ जा रहे
चलता है साल भर ही सफ़ीना रसूल का
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہجرت مرے حبیب کی ، یثرب ترا نصیب
یثرب سے بن گیا تو مدینہ رسول کا
हिजरत मिरे हबीब की यसरब तिरा नसीब
यसरब से बन गया तू  मदीना रसूल का
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آقائے دو جہاں کی علیؔ شان ہی الگ
ہر ذرہ کائنات کا صدقہ رسول کا
आक़ा ए दोजहाँ की अली शान ही अलग
हर ज़र्रा काईनात का सदका रसूल का
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمد علی

ایم آر مفتی کی نعتیہ شاعری

صبح بھی مدینے کی شام بھی مدینے کی
کس قدر معطر ہے ہر گھڑی مدینے کی

کاش کہ  ا مرے لمحے بس وہیں پے تھم جاتے
جس گھڑی ہوئی میری حاضری مدینے کی

میں نے اپنی آنکھوں سے بارہا یہ دیکھا ہے
چاندنی سے بڑھ کر ہے دلکشی مدینے کی

کاش شہر طیبہ میں میرا دم نکل جاتا
موت لیکے آ جاتی زندگی مدینے کی

رحمت خدا وند ی کا نزول ہوتا ہے
جنّتو ں کے جیسی ہیں ہر گلی مدینے کی

عاشق نبی ہوں میں یہ مرا عقیدہ ہے
مجھ کو بخشوا یگی عاشقی مدینے کی

رشک کیوں نہ ہو مفتی  اپنی زند گا نی پے
مجھکو راس آتی ہے  دل لگی مدینے کی
رضا مفتی

Subh bhi Madine ki Sham bhi Madine ki....,
Kis qadar muattar hai har ghari Madine ki..

Kaash ke mere lamhe bas wahin pe tham jate,
Jis ghari hui meri haziri Madine ki...

Maine apni aankhon se baraha ye dekha hai,
Chandni se badhkar hai Dilkashi Madine ki...

Kash shahre taiba mein mera dam nikal jata,
Maut leke aa jati zindagi Madine ki.....

Rahmate Khuda wandi ka nozul hota hai,
Jannaton ke jaisi hai har gali Madine ki...

Aashique Nabi hun main ye mera aqeeda hai,
Mujhko bakhshwayegi aashiqui Madine ki...

Rashk kyon na ho Mufti apni zindagani pe,
Mujhko raas aati hai dil lagi Madine ki...

#Raza Mufti

پروفیسر عبدالمنان طرزی صاحب کی نعت پاک

نعت 

پروفیسر طرزی، دربھنگہ

متاع چشمِ مشتاقاں ترے روضے کی جالی ہے

مری تسکیں کا ہر ساماں ترے روضے کی جالی ہے

مرے قلب و نظر کے گوشے گوشے ہو گئے روشن

بلاشبہ مہ تاباں ترے روضے کی جالی ہے

ترے در کی حضوری ہے شہنشاہی سے افضل تر

نگاہِ شوق کا قرآں ترے روضے کی جالی ہے

میں اپنے ہاتھ کی ان انگلیوں پر رشک کرتا ہوں

ہیں جن کو چھو کے یہ ذیشاں ترے روضے کی جالی ہے

میں سارے رنج و غم اپنے یہاں پر بھول بیٹھا ہوں

مرے ہر درد کا درماں ترے روضے کی جالی ہے

مجھے ہے روزِ محشر کامیابی کے لئے کافی

کہ دل میں صورتِ مہماں ترے روضے کی جالی ہے

تمنا دل میں اب طرزی کے نہیں ہے اب کوئی باقی

مٹائے جس نے سب ارماں ترے روضے کی جالی ہے

ڈاکٹر آرتی کے حمدیہ اشعار

Kadi hai dhoop hame saayebaan de maula
Saron pe chaadare Rahmat bhi taan de maula

fir ek baar baras ja tu abr ki soorat
har ek kisan ke kheto'n to dhaam de maula

kisi ki baat se toote kisi ka dil na kabhi
zamane walo'n ko aisi zubaan de maula

कड़ी है धूप हमें सायबान दे मौला
सरों पे चादरे रहमत भी तान दे मौला

फिर एक बार बरस जा तू अब्र की सूरत
हर एक किसान के खेतों को धान दे मौला

किसी की बात से टूटे किसी का दिल ना कभी
ज़माने वालों को ऐसी ज़ुबान दे मौला
-आरती
����������������