بدھ، 23 اگست، 2017

غزل-حسن امام قاسمی

**********غزل**********

میرے  اپنے  سب  کنارے  ہوگئے
ہم سفر جب تیز  دھارے ہو گئے

مفلسی میں ہائے رے یہ بے بسی
دور ہم سے دوست سارے ہوگئے

عیب جوئی تم نے کی کچھ اس طرح
عیب  میرے سب تمہارے ہوگئے

تیرگی کی حکمرانی کیوں نہ ہو
ایسے  ویسے  چاند  تارے ہوگئے

آئے  ان  کے جب  قدوم   میمنت
خوبصورت  سب  نظارے  ہوگئے

شاعری کی ان سے نسبت جوڑکر
جو بھی  لکھا  نظم  پارے ہوگئے

موسم گل نے جو چھیڑا اے حسن
پھر سے تازہ  زخم  سارے ہوگئے

حسن امام قاسمی

غزل : رضا مفتی

غزل

بستی میں جب کوئی بے گھر ہوتا تھا
سونا سونا سا ہر منظر ہوتا تھا

تم نے مجھ کو موم بناکر چھورا ہے
کل تک میرا دل بھی پتھر ہوتا تھا

اب وہ سارے ہی سنسد میں ہوتے ہیں
پہلے قاتل جیل کے اندر ہوتا تھا

جس گھر کے بیٹے پردیس میں ہوتے تھے
گاؤں میں وہ سب سے بہتر ہوتا تھا

ان اجری گلیوں میں ہی کچھ سال گئے
اپنا  ملنا جلنا اکثر ہوتا تھا

آنگن میں جب کھاٹ پہ ہم سو جاتے تھے
چاند ہمارے گھر کے اوپر ہوتا تھا

اک خوشبو کمرے میں پھیلی ہوتی تھی
میری میز پہ اس کا  لیٹر ہوتا تھا

وقت نے تنہا چھور دیا ہے آج  رضا
میرے ساتھ بھی کل تک لشکر ہوتا تھا

رضا مفتی

غزل : جمیل ارشد خان

غزل
جمیل ارشد

شمشیر آبدار ہو؛ جذبوں پہ زنگ ہو
کیا خاک ایسے حال میں باطل سے جنگ ہو

محسوس ہو گھٹن تو تعجّب کی بات کیا؟
پیراہنِ حیات ہی جب اتنا تنگ ہو

ذوقِ سفر کو اور ملے جس سے تقویت
اک ایسا  ہمسفر بھی کوئ میرے سنگ ہو

رنگینئ زمانہ سے یوں بے غرض ہے دل
جیسے کوئ فقیر ہو جیسے ملنگ ہو

ہو جس فصیلِ شہر پہ تکیہ کئے ہوئے
ایسا نہ ہو کہ اس کے ہی نیچے سرنگ ہو

ارشد مریضِ ہجر کا بیکار ہے علاج
وہ کیا جیے گا جس کے نہ دل میں امنگ ہو

جمیل ارشد خان کھام گانوی ناگپور
                       919503600264
🌺🌹🌺🌹🌺🌹🌺🌹🌺🌹🌺

غزل : جہانگیر نایاب

------------------------(غزل)-------------------------

میں  غرق  ہو   گیا   ہوں  خود  اپنے وجود میں
اورخودکو ڈھونڈتاہوں ہوں خوداپنے وجود میں

عادت  سی پر گئی  ہے  جو  تنقیص  کی  مجھے
کیڑے    نکالتا   ہوں   خود   اپنے    وجود   میں

کچھ اس طرح سے ڈھائے  ہیں  حالات نے  ستم
گم  ہو  کے  رہ  گیا  ہوں  خود  اپنے وجود  میں

جیسے  مِرے  ہی  جسم  کا  حصہ  ہو تم  کوئی
میں تم  کو  ڈھونڈتا ہوں خود  اپنے وجود  میں

ہر  نقص   دیکھتا   ہوں   خود    اپنے  وجود  کا
میں  ایک   آئینہ  ہوں  خود   اپنے   وجود  میں

قائم  ہے   مجھ   میں  میرے تخیّل کی سلطنت
بے تاج   بادشہ   ہوں   خود   اپنے   وجود   میں

نایاب     انقلاب    زمانہ     کی     ہے        دلیل
بدلاؤ   دیکھتا    ہوں   خود    اپنے  وجود  میں

--------------------------------------*جہانگیرنایاب

غزل: شہنواز اختر

غزل
کسی کے وعدہ فردا پہ اعتبار نہ کر
تو رسم مہر و محبت کو شرمسار نہ کر

اگر چہ لوگ وفاؤں کی بات کرتے ہیں
مرا ضمیر یہ کہتا ہے اعتبار نہ کر

تغیرات زمانہ سے خوب واقف ہوں
سبات دہر کا تو ذکر میرے یار نہ کر

جو اہل ظرف ہیں اشکوں کو اپنے پیتے ہیں
جگر کے درد سے آنکھوں کو اشکبار نہ کر

یہ دور نو  تقاضا ہے بر محل اختر
قدیم طرز غزل میں اب اختیار نہ کر

شاہنواز اختر
پا ٹلی پترا ، پٹنہ

غزل : نصر بلخی

غزل
نصر بلخی

سروں پہ باندھے کفن تیرے جانثار آئے
وہ ایک بار نہیں آئے بار بار آئے

منافقت کو بنایا ہے اپنا طرز عمل
مری طرف سے کسی دل پہ کیوں غبار آئے

ہم اہلِ شوق ہیں، صحرا نشیں ہیں دشت نورد
ستارے فرشِ گزر گرچہ بے شمار آئے

کہ زندگی کی صداقت کو جانتا ہے وہی
غم حسین ہو اور کیوں نہ اشک بار آئے

دہائی دیتے ہیں اپنی وہ جانثاری کی
کہ قتل گاہ وفا سے وہ شرمسار آئے

رہِ وفا میں عجب اضطراب جاں تھا نصر
قریب جتنے ہوئے اور بے قرار آئے

غزل: امام قاسم ساقی

غزل

طائرِ فکر و نظر لے کر بہار آنے کو ہے 
شاعرِ اردو کے فن پر اب نکھار آنے کو ہے

شب کی چادر پر سجانے کے لئے اک کہکشاں 
جنگلوں سے  جگنوؤں کی اک قطار آنے کو ہے

ٹہنیاں یوں  لے رہی ہیں جھوم کر  انگڑائیاں 
جیسے گلشن میں نویدِ نو  بہار آنے کو ہے

اے زمیں !  ہے  سر خمیدہ کیوں یہ تیرا آسماں 
کیا تری بیتابیوں  کو اب قرار آنے کو ہے ؟

اوڑھ کر علم و ہنر کی کہکشاں اے ساقیا !
انجمن سے جاکے کہدے  خاکسار آنے کو ہے

امام قاسم ساقی

نعت پاک : واحد نظیر

واحد نظیر

جو دشمنِ رسول تھے وہ خوار ہو گئے
شاہانِ وقت ، ان کے وفا دار ہو گئے

حالات خود حریفِ شبِ تار ہو گئے
ظلمت کے جتنے حربے تھے بے کار ہو گئے

بخشا مرے رسول نے وہ طرزِ زندگی
صحرا کے گاؤں شہر کا معیار ہو گئے

فیضانِ مصطفیٰ کی یہ زندہ مثال ہے
موضوعِ نعت گنبد و مینار ہو گئے

خیرات شہرِ علم کی چوکھٹ سے مل گئی
الفاظ اپنے لائقِ اظہار ہو گئے

تشریحِ ما رَمیتَ سے یہ بھی ہنر کھلا
حمدِ خدا میں نعت کے اشعار ہو گئے

منگتوں کو یوں نظیر شہنشاہ نے دیا
جو تھے فقیر وہ بھی دُرَر بار ہو گئے

....... بزم غزل.......

جمعرات، 3 نومبر، 2016

کھائی:: انجمن اختر

ایک کوشش

*کھائ*

''کہاں جا رہی ہو بی، مرنا ہے کیا!"
کسی نے اچانک ہوری طاقت سے اسے پیچھے کھینچا.
وہ جیسے نیند سے جاگی.
"اتنی بڑی کھائ ہے، دکھتا نہیں کیا!"
راہگیر جنھجھلا کر بولا اور اپنے راستے بڑھ گیا.
لفظ 'کھائ'....
اس کے دماغ میں جھنجناہٹ سی ہوئ. کئ مختلف آوازیں فضا میں گونجنے لگیں. "تم جس راہ پہ چل پڑی ہو سیدھے کھائ میں گروگی."
"یہ راستہ منزل کی طرف نہیں کھائ کی طرف جاتا ہے."
"تم نے خود کھائ کاانتخاب کیا ہے. کبھی پلٹ کر وآپس مت آنا."
سچ ہے. بھلا کھائ میں گرنے کے باد کوئ واپس آیا ہے!!
وہ بھی تو نہیں پلٹ سکی تھی واپس.
ماڈلنگ کی چکاچوندھ دنیا سے جہاں شہرت اور بلندی کی گہری کھائ تھی.وہ جتنا اوپر اٹھتی گئ اتنی ہی زیادہ پستی اس کا مقدر بنتی چلی گئ. کھائ میں گرے بےجان وجود کی طرح اب اس کے بھی تمام احساس مر چکے تھے. فقط سانسوں کا بھاری بوجھ سینے پہ دھرا تھا.
اس نے ایک بار پھر کھائ کی طرف قدم بڑھا دیے.

*انجمن اختر*

منگل، 1 نومبر، 2016

نظم :: زارا فراز

*نظم :*
*عنوان : "صیاد"*
*تحریر : زارا فراز*

میرے صیاد
میں تیرے طلسمی دیس کی داسی ہوں
بہت دنوں، تیرے وجود کے گوشے میں
قید رہی
تم نے میرے پرواز کے پر
کاٹ ڈالے تھے
آج جب میرے نئے پر نکل آئے تو
تم نے بھی مجھے
آزادی کا پروانہ دے دیا
مگر قسمت کی ستم ظریفی دیکھو
میں اڑنا بھول چکی ہوں

نظم : کامران غنی صبا

*ایک نظم*
*آج کے اخبارات کی شہ سرخی سے متاثر ہو کر*

گھروں کے تالے
جب لکڑی کی جابی سے کھلیں
اور اسٹیل کے برتن سے قتل عام ہو
تو جان لو
خطرہ ہی خطرہ ہے
یقیناً گھر کے اندر ہی
کوئی تو ہے
جو گھر کے راز کو
چادر کے کونے میں دبا کر
آہنی دیوار سے باہر
گھما کر پھینک دیتا ہے
اور اس کے بعد
اخباروں کے پہلے پیج پر
گھر کی تباہی کے
بڑے دلدوز منظر رقص کرتے ہیں
ہمارے گھر کو خطرہ ہے
مکیونوں سے کمینوں سے

کامران غنی صبا

نظم:: بے چہرہ وجود کی غرض

*تحریر :--- زارافراز*

*"بے چہرہ وجود کی غرض"*

ٹھہرو میں تم کو اس کی کہانی سناتی ہوں
وہ کیوں تمہاری ذات کا حصہ بننا چاہتی ہے
" یہ تو پرانی بات ہے کہ
انسان کچھ پانے کی تلاش میں
اپنے "میں " کو کھو دیتا ہے
اس نے بھی خود کو کھو دیا ہے
مگر اب وہ اردو زبان کے بازو تھامے،
لفظوں کے بازار کی روشن پیشانی جیسی شبنمی زمین پر
دو زانوں بیٹھی،شہر ذات کی گویائی
چن رہی ہے
اس کی ذات میں پہلا ادراک
ان کٹی ہوئی انگلیوں کی قسمت کا ہوا
جو قلم اٹھانے کے جرم میں
جسم سے جدا کر دی گئیں تھیں
اس کی آنکھیں اب بھی سلامت ہیں
وہی اس کی گہری دوست بھی ہیں
وہ ان دوست آنکھوں سے
کہانیوں کے " کالبد" کو
چھونا چاہتی ہے
اور شاید تمہاری ذات میں پنپ کر
اپنا " پہلا جنم " کا
استحصال چاہتی ہے
اب وہ اس اعتراف سے نہیں ڈرتی
کہ
اس نے چاہت میں
غرض کو شامل کر لیا ہے
یہ وہی ہے جو نقاب رخ سے
چہرہ اتار کر
بے چہرہ وجود کے ساتھ
تمہارے سامنے کھڑی
تم سے آنکھیں ملا ک
بات کرتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

منگل، 20 ستمبر، 2016

غزل___جمیل اختر شفیق

غزل
��جمیل اخترشفیق
��کسی کی آہ سنتے ہی جو فوراً کا نپ جاتے ہیں
  وہی انسانیت کےدرد میں آنسو بہاتے ہیں

��نہ جانے کیسا مستقبل ہمارا ملک کا ہوگا؟
  سناہے آج کل بچے بھی چھپ کر بم بناتے ہیں

��یہاں قانون کی کرسی پہ اندھے لوگ بیٹھے ہیں
  خطا جن کی نہیں ہوتی اُنہیں پھانسی چڑھاتے ہیں

��وہ سچ کو بھی غلط کہہ دیں تو کوئ کچھ نہیں کہتا
  غلط کو ہم غلط کہہ دیں تو سب آنکھیں دکھاتے ہیں

��نہ جانے کونسی دنیا مرے حصے میں آئ ہے
  وفا کا نام سنتے ہی سبھی پتھر اُٹھاتے ہیں

��سیاست کے پجاری عشق کی گرمی کو کیاجانیں؟
  فقط ہم صاحبِ دل ہیں جو اپنا دل جلاتے ہیں

��ہمارا نام دہشت گرد کی فہرست میں ہوگا
  کسی مظلوم کے حق میں اگر نعرہ لگاتے ہیں

��اُنہیں انسانیت کےدرد کا احساس کیا ہوگا؟
  جو لے نام مذہب کا ہمیں ہردم لڑاتے ہیں

��ہمیں ناکام کرنے کی بہت سازش  ہوئ لیکن
  خدا کے فضل سے اب بھی قدم آگے بڑھاتے ہیں

��ہماری خامشی پہ طنز کرنا بھی حماقت ہے
  کسی کم ظرف سے ہرگز نہیں ہم منہ لگاتے ہیں

��بتادو اے "شفیق"اُن کو کہ جو ہیں عقل سے پیدل
  ہم اپنے خون سے اس ملک کا نقشہ بناتے ہیں
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
GAZAL
✒jamil akhtar shafique

��kisi ki aah sunte hi Jo fauran kaa-np jaate hai-n
   wahi insaaniyat k dard aa-nsu bahaate hai-n

��na jaane kaisa mustaqbil hamare mulk ka hoga
   Suna hai aaj kal bachche bhi chhup kar bam banaate hai-n

��yaha-n qanoon ki kursi pe andhe log baithe hai-n
   Khata jinki nahi hoti unhe-n phaa-nsi chadhaate hai-n

��wo sach ko bhi galat kah de-n to koe kuchh nahi kahta
   galat ko ham galat kah de-n to sab aa-nkhe-n dekhaate hai-n

��na jaane konsi duniya mere hisse me aae hai
   Wafa ka naam sunte hi sabhi patthar uthaate hai-n

��seyaasat k pujaari ishq ki garmi ko keya jaane-n
   Faqat Ham saahabe dil hai-n Jo Apna dil jalaate hai-n

��hamara naam dahshat gard ki fehrist me hoga
   kisi mazloom k haq me agar naara lagaate hai-n

��unhe-n insaaniyat k dard ka ahsaas keya hoga
Jo le kar naam mazhab ka hame bar dam ladaate hai-n

��hame nakaaam karne ki bahut saazish hue lekin
Khuda k fazl se ab bhi qadam aage badhaate hai-n

��hamaari khamushi pe tanz karna bhi hemaaqat hai
Kisi kam zarf se har giz nahi ham mu-nh lagaate hai-n

��bata do ai "shafique" unko k Jo hai-n aql se paidal
Ham apne khoon se is mulk ka naqsha banaate hai-n
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::

پیر، 19 ستمبر، 2016

غزل___جمیل اختر شفیق

غزل
��جمیل اخترشفیق
��جو ہردن چاند سورج کی طرح ڈھل کرنکلتاہے
  وہی عاشق وفا کی آگ میں جل کر نکلتا ہے

��بہت مشکل ہے اُس کے درد کو یونہی سمجھ لینا
  وہ اکثر آنکھ اپنے ہاتھ  سے مَل کر نکلتا ہے

��اُسی بچہ کو دنیا آج دہشت گرد کہتی ہے
  جو اک مظلوم ماں کی گود میں پل کر نکلتا ہے

��زمین وآسماں اُس کی قدم بوسی کو بڑھتے ہیں
  جوننگے پاؤں تپتی ریت پر چل کر نکلتا ہے

��نہ کیسے ہو بھلا باغی "شفیق" انسان وہ آخر
  کسی کے ظلم کی بھٹی میں جو جل کر نکلتا ہے
***********************
GHAZAl
✒jamil akhtar shafique
��Jo har din chaand suraj ki tarah dhal kar nikalta hai
Wahi aashiq wafa ki aag me jal kar niklta hai

��bahut mushkil hai uske dard ko u-nhi samajh lena
Wo aksar aa-nkh apne hath se mal kar nikalta hai

�� usi bachcha ko duniya aaj dahshat gard kahti hai
Jo ak mazloom maa-n ki god me pal kar nikalta hai

��zamino-n aasmaa-n uski qadam bosi ko badhte hai-n
Jo na-gge paaao-n tapti ret par  chal kar nikalta hai

��na kaise ho bhala baaghi "shafique" insaan wo aakhir
kisi k zulm ki bhatti me Jo jal kar nikalta hai
********************

ہفتہ، 3 ستمبر، 2016

غزل--جمیل اختر شفیق

غزل
�� جمیل اخترشفیق
��تو اگر شوق کی سرحد سے گزر جائے گا
��روشنی بن کے زمانے میں بکھر جائے گا

��اپنے دُکھ درد پہ آنسو کیا نمائش نہ کیا کر
��زخم تو زخم ہے کچھ روز میں بھر جائے گا

��ایسے تھک ہار کے مت بیٹھ اپاہج کی طرح
��وقت سے پہلے ہی دنیا سے گزر جائے گا

��اُس سے ملنے کا بہت جلد ارادہ ہے مگر
��ایسا لگتا ہے کہ پھر وقت ٹھہر جائے گا

��روز قسطوں میں  جدائ کی اذیت مت دے
��ورنہ عاشق ترا بے موت ہی مر جائے گا

��خود سے اب دور کدھر بھاگ کے جائے گا "شفیق"؟
��ٹھوکریں ملتی رہیں گی توجدھر جائے گا
��������������
GHAZAl

✒ jamil akhtar shafiue

��tu agar shauq ki sarhad se guzar jaaiga
��raushni ban k zamane me bikhar jaaiga

��apne dukh dard pe aa-nsu ki numaaesh na kiya kar
��zakhm to zakhm hai kuchh roz me bhar jaaiga

��aise thak haar k mat baith apaahij ki tarah
��waqt se pahle hi duniya se guzar jaaiga

�� us se milne ka bahut jald eraada hai magar
��aisa lagta hai k phir waqt thahar jaaiga

��roz qisto-n me judaae ki aziyat mat de
�� warna aashiq tera be maut hi mar jaaiga

��khud se ab door kidhar bhaag k jaaiga "shafique"?
��thokare-n milti rahe-ngi tu jidhar jaaiga
----------------------

جمعہ، 2 ستمبر، 2016

غزل--.جہانگیر نایاب صاحب

غزل--جمیل اختر شفیق

ابتدائ دنوں کی ایک
غزل
��جمیل اخترشفیق

��بے وجہ ہنس کے گلے مجھ کو لگایاکیوں تھا ؟
��جب بچھڑنا تھا تو پھر یاتھ ملایا کیوں تھا؟

��کھل کے میں آج تلک مسکر سکا نہ کبھی
��زندگی تو نے مجھے اتنا ستایا کیوں تھا؟

��بے وفائ تیری فطرت ہے تو پھر اس دل میں
��اس قدر پیار کا احساس جگایا کیوں تھا ؟

��پھونک جانا تھا اگر خواب کے ہر اک گھر کو
��میری اُجڑی ہوئ دنیا کو بسایا کیوں تھا؟

��چھوڑ جانا تھا اگر راہ میں تنہا مجھ کو
��عمر بھر ساتھ چلوں گا یہ بتایا کیوں تھا؟

��تیرے دل میں مری چاہت جو نہیں تھی پھر بھی
��میری تصویر اکیلے میں بنایا کیوں تھا ؟

��جب یہ معلوم تھا اک روزبچھڑنا ہے "شفیق"
��تونے اس شخص کو پھر دل میں  کیوں تھا؟
--------------------
GHAZAl
✒jamil akhtar shafique

��be wajah Ha-ns k gale mujh ko lagaya kiyo-n tha?
��jab bichhadna tha to phir hath milaya kiyo-n tha?

��khul k mai aaj talak muskura saka na kabhi
��zindagi tu ne mujhe itna sataaya kiyo-n that?

��be wafaae teri fitrat hai to phir is dil me
��Is qadar peyaar ka ahsaas jagaaya kiyo-n tha?

�� phoo-nk jana tha agar khawaab k har ak ghar ko
��meri ujdi hue duniya ko basaaya kiyo-n tha?

��chhod jaaana tha agar raah me tanha mujh ko
��umr bhar saath chalu-nga ye bataaya kiyo-n tha?

��tere dil meri chaahat jo nahi thi phir bhi
��meri tasweer akele me banaaya kiyo-n tha?

��jab ye maloom tha ak roz bichhadna hai "shafique"
��tu ne us shakhs ko phir dil me basaaya kiyo-n tha?
��������������

غزل----جہانگیر نایاب

--------------------------(غزل)-----------------------

کیوں غم سے ہے، نڈھال تجھے  جانتا ہوں میں
اے  میرے  ہم  خیال  تجھے     جانتا ہوں میں

باقی ہے تجھ میں اب بھی وہ ہمت، وہ حوصلہ
تجھ میں ہے کیا؟  کمال تجھے جانتا ہوں میں

رشتہ  ہے   ایک  درد   کا    دونوں  کے   درمیاں
دوری کا ، کیا  ؟ سوال  تجھے   جانتا  ہوں میں

گھبرا  نہ   راستوں   کے ،  نشیب  و  فراز    سے
منزل کا  رکھ   خیال   تجھے   جانتا ہوں  میں

خود پر  یہ اعتماد ہی ،  طاقت ہے  تری دوست
کیوں  ہو  تِرا  زوال  تجھے   جانتا  ہوں   میں

ممکن  نہیں  کسی  سے  جو ، تیری  مثال   دے
خود  میں  ہے تُو  مثال  تجھے  جانتا ہوں میں

خود   کو   نکال   لے   گا   تُو  حزن و ملال سے
وقتی   ہے   یہ اُبال   تجھے  جانتا   ہوں  میں

ممکن  نہیں   کہ  روک  لے    بڑھتے  قدم کوئی
کس کی ہے اب مجال  تجھے جانتا  ہوں میں

                                       جہانگیرنایاب

بدھ، 31 اگست، 2016

غزل-جمیل اختر شفیق

��غزل ��
��........جمیل اخترشفیق

��ہم اپنادردزمانےسےکیابیاں کرتے
��جوگھرکی بات تھی کس طرح سےعیاں کرتے

�� غموں کی دھوپ سےملتی اگرنجات ہمیں
��توتیری یادکی چادرکوسائباں کرتے

��ہمیں عروج کی حسرت نےتم سےدورکیا
��وگرنہ شام تمہارےہی درمیاں کرتے

��امیرلوگ تھے،کچھ ظرف اُن کاچھوٹاتھا
��کوئ غریب جوملتاتورازداں کرتے

��فلک نےچھین لیےپل میں زندگی کےحقوق
��وگرنہ عزم سےذرّوں کوکہکشاں کرتے

��نہ کوئ عدل کامیزان تھا،نہ منصف تھے
��غمِ حیات کاہم فیصلہ کہاں کرتے؟

��اگرعزیزتھاکوئ تمام دنیاسے
��تودھیرےدھیرےزمانےکوہم زباں کرتے

�� کھڑاہےآج بھی گھرساراکچی اینٹوں پر
��"کٹی ہےعمرلہواپنارائیگاں کرتے"

��ہمارےنام کو"دہشت" سےجوڑنےوالو!
��گزاری ہم نےہے"بھارت" کوگلستاں کرتے

��کسی کےجھوٹ کوسچ کالباس پہناکر
��بتاؤکیسےمقدرکوبےنشاں کرتے؟

��زبان بندتھی،آنکھیں چھلک رہی تھیں "شفیق"
��ہم اس کےبعدبھلااُن سےکیابیاں کرتے؟
����������������������������