غزل
جمیل ارشد
شمشیر آبدار ہو؛ جذبوں پہ زنگ ہو
کیا خاک ایسے حال میں باطل سے جنگ ہو
محسوس ہو گھٹن تو تعجّب کی بات کیا؟
پیراہنِ حیات ہی جب اتنا تنگ ہو
ذوقِ سفر کو اور ملے جس سے تقویت
اک ایسا ہمسفر بھی کوئ میرے سنگ ہو
رنگینئ زمانہ سے یوں بے غرض ہے دل
جیسے کوئ فقیر ہو جیسے ملنگ ہو
ہو جس فصیلِ شہر پہ تکیہ کئے ہوئے
ایسا نہ ہو کہ اس کے ہی نیچے سرنگ ہو
ارشد مریضِ ہجر کا بیکار ہے علاج
وہ کیا جیے گا جس کے نہ دل میں امنگ ہو
جمیل ارشد خان کھام گانوی ناگپور
919503600264
🌺🌹🌺🌹🌺🌹🌺🌹🌺🌹🌺
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں