ایک کوشش
*کھائ*
''کہاں جا رہی ہو بی، مرنا ہے کیا!"
کسی نے اچانک ہوری طاقت سے اسے پیچھے کھینچا.
وہ جیسے نیند سے جاگی.
"اتنی بڑی کھائ ہے، دکھتا نہیں کیا!"
راہگیر جنھجھلا کر بولا اور اپنے راستے بڑھ گیا.
لفظ 'کھائ'....
اس کے دماغ میں جھنجناہٹ سی ہوئ. کئ مختلف آوازیں فضا میں گونجنے لگیں. "تم جس راہ پہ چل پڑی ہو سیدھے کھائ میں گروگی."
"یہ راستہ منزل کی طرف نہیں کھائ کی طرف جاتا ہے."
"تم نے خود کھائ کاانتخاب کیا ہے. کبھی پلٹ کر وآپس مت آنا."
سچ ہے. بھلا کھائ میں گرنے کے باد کوئ واپس آیا ہے!!
وہ بھی تو نہیں پلٹ سکی تھی واپس.
ماڈلنگ کی چکاچوندھ دنیا سے جہاں شہرت اور بلندی کی گہری کھائ تھی.وہ جتنا اوپر اٹھتی گئ اتنی ہی زیادہ پستی اس کا مقدر بنتی چلی گئ. کھائ میں گرے بےجان وجود کی طرح اب اس کے بھی تمام احساس مر چکے تھے. فقط سانسوں کا بھاری بوجھ سینے پہ دھرا تھا.
اس نے ایک بار پھر کھائ کی طرف قدم بڑھا دیے.
*انجمن اختر*
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں