------------------------(غزل)-------------------------
میں غرق ہو گیا ہوں خود اپنے وجود میں
اورخودکو ڈھونڈتاہوں ہوں خوداپنے وجود میں
عادت سی پر گئی ہے جو تنقیص کی مجھے
کیڑے نکالتا ہوں خود اپنے وجود میں
کچھ اس طرح سے ڈھائے ہیں حالات نے ستم
گم ہو کے رہ گیا ہوں خود اپنے وجود میں
جیسے مِرے ہی جسم کا حصہ ہو تم کوئی
میں تم کو ڈھونڈتا ہوں خود اپنے وجود میں
ہر نقص دیکھتا ہوں خود اپنے وجود کا
میں ایک آئینہ ہوں خود اپنے وجود میں
قائم ہے مجھ میں میرے تخیّل کی سلطنت
بے تاج بادشہ ہوں خود اپنے وجود میں
نایاب انقلاب زمانہ کی ہے دلیل
بدلاؤ دیکھتا ہوں خود اپنے وجود میں
--------------------------------------*جہانگیرنایاب
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں