غزل
نصر بلخی
سروں پہ باندھے کفن تیرے جانثار آئے
وہ ایک بار نہیں آئے بار بار آئے
منافقت کو بنایا ہے اپنا طرز عمل
مری طرف سے کسی دل پہ کیوں غبار آئے
ہم اہلِ شوق ہیں، صحرا نشیں ہیں دشت نورد
ستارے فرشِ گزر گرچہ بے شمار آئے
کہ زندگی کی صداقت کو جانتا ہے وہی
غم حسین ہو اور کیوں نہ اشک بار آئے
دہائی دیتے ہیں اپنی وہ جانثاری کی
کہ قتل گاہ وفا سے وہ شرمسار آئے
رہِ وفا میں عجب اضطراب جاں تھا نصر
قریب جتنے ہوئے اور بے قرار آئے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں