*نظم :*
*عنوان : "صیاد"*
*تحریر : زارا فراز*
میرے صیاد
میں تیرے طلسمی دیس کی داسی ہوں
بہت دنوں، تیرے وجود کے گوشے میں
قید رہی
تم نے میرے پرواز کے پر
کاٹ ڈالے تھے
آج جب میرے نئے پر نکل آئے تو
تم نے بھی مجھے
آزادی کا پروانہ دے دیا
مگر قسمت کی ستم ظریفی دیکھو
میں اڑنا بھول چکی ہوں
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں