بدھ، 23 اگست، 2017

غزل: امام قاسم ساقی

غزل

طائرِ فکر و نظر لے کر بہار آنے کو ہے 
شاعرِ اردو کے فن پر اب نکھار آنے کو ہے

شب کی چادر پر سجانے کے لئے اک کہکشاں 
جنگلوں سے  جگنوؤں کی اک قطار آنے کو ہے

ٹہنیاں یوں  لے رہی ہیں جھوم کر  انگڑائیاں 
جیسے گلشن میں نویدِ نو  بہار آنے کو ہے

اے زمیں !  ہے  سر خمیدہ کیوں یہ تیرا آسماں 
کیا تری بیتابیوں  کو اب قرار آنے کو ہے ؟

اوڑھ کر علم و ہنر کی کہکشاں اے ساقیا !
انجمن سے جاکے کہدے  خاکسار آنے کو ہے

امام قاسم ساقی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں