غزل
بستی میں جب کوئی بے گھر ہوتا تھا
سونا سونا سا ہر منظر ہوتا تھا
تم نے مجھ کو موم بناکر چھورا ہے
کل تک میرا دل بھی پتھر ہوتا تھا
اب وہ سارے ہی سنسد میں ہوتے ہیں
پہلے قاتل جیل کے اندر ہوتا تھا
جس گھر کے بیٹے پردیس میں ہوتے تھے
گاؤں میں وہ سب سے بہتر ہوتا تھا
ان اجری گلیوں میں ہی کچھ سال گئے
اپنا ملنا جلنا اکثر ہوتا تھا
آنگن میں جب کھاٹ پہ ہم سو جاتے تھے
چاند ہمارے گھر کے اوپر ہوتا تھا
اک خوشبو کمرے میں پھیلی ہوتی تھی
میری میز پہ اس کا لیٹر ہوتا تھا
وقت نے تنہا چھور دیا ہے آج رضا
میرے ساتھ بھی کل تک لشکر ہوتا تھا
رضا مفتی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں