واحد نظیر
جو دشمنِ رسول تھے وہ خوار ہو گئے
شاہانِ وقت ، ان کے وفا دار ہو گئے
حالات خود حریفِ شبِ تار ہو گئے
ظلمت کے جتنے حربے تھے بے کار ہو گئے
بخشا مرے رسول نے وہ طرزِ زندگی
صحرا کے گاؤں شہر کا معیار ہو گئے
فیضانِ مصطفیٰ کی یہ زندہ مثال ہے
موضوعِ نعت گنبد و مینار ہو گئے
خیرات شہرِ علم کی چوکھٹ سے مل گئی
الفاظ اپنے لائقِ اظہار ہو گئے
تشریحِ ما رَمیتَ سے یہ بھی ہنر کھلا
حمدِ خدا میں نعت کے اشعار ہو گئے
منگتوں کو یوں نظیر شہنشاہ نے دیا
جو تھے فقیر وہ بھی دُرَر بار ہو گئے
....... بزم غزل.......
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں