منگل، 1 نومبر، 2016

نظم:: بے چہرہ وجود کی غرض

*تحریر :--- زارافراز*

*"بے چہرہ وجود کی غرض"*

ٹھہرو میں تم کو اس کی کہانی سناتی ہوں
وہ کیوں تمہاری ذات کا حصہ بننا چاہتی ہے
" یہ تو پرانی بات ہے کہ
انسان کچھ پانے کی تلاش میں
اپنے "میں " کو کھو دیتا ہے
اس نے بھی خود کو کھو دیا ہے
مگر اب وہ اردو زبان کے بازو تھامے،
لفظوں کے بازار کی روشن پیشانی جیسی شبنمی زمین پر
دو زانوں بیٹھی،شہر ذات کی گویائی
چن رہی ہے
اس کی ذات میں پہلا ادراک
ان کٹی ہوئی انگلیوں کی قسمت کا ہوا
جو قلم اٹھانے کے جرم میں
جسم سے جدا کر دی گئیں تھیں
اس کی آنکھیں اب بھی سلامت ہیں
وہی اس کی گہری دوست بھی ہیں
وہ ان دوست آنکھوں سے
کہانیوں کے " کالبد" کو
چھونا چاہتی ہے
اور شاید تمہاری ذات میں پنپ کر
اپنا " پہلا جنم " کا
استحصال چاہتی ہے
اب وہ اس اعتراف سے نہیں ڈرتی
کہ
اس نے چاہت میں
غرض کو شامل کر لیا ہے
یہ وہی ہے جو نقاب رخ سے
چہرہ اتار کر
بے چہرہ وجود کے ساتھ
تمہارے سامنے کھڑی
تم سے آنکھیں ملا ک
بات کرتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں