بدھ، 23 اگست، 2017

غزل: شہنواز اختر

غزل
کسی کے وعدہ فردا پہ اعتبار نہ کر
تو رسم مہر و محبت کو شرمسار نہ کر

اگر چہ لوگ وفاؤں کی بات کرتے ہیں
مرا ضمیر یہ کہتا ہے اعتبار نہ کر

تغیرات زمانہ سے خوب واقف ہوں
سبات دہر کا تو ذکر میرے یار نہ کر

جو اہل ظرف ہیں اشکوں کو اپنے پیتے ہیں
جگر کے درد سے آنکھوں کو اشکبار نہ کر

یہ دور نو  تقاضا ہے بر محل اختر
قدیم طرز غزل میں اب اختیار نہ کر

شاہنواز اختر
پا ٹلی پترا ، پٹنہ

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں