غزل
........جمیل اخترشفیق
ہم اپنادردزمانےسےکیابیاں کرتے
جوگھرکی بات تھی کس طرح سےعیاں کرتے
غموں کی دھوپ سےملتی اگرنجات ہمیں
توتیری یادکی چادرکوسائباں کرتے
ہمیں عروج کی حسرت نےتم سےدورکیا
وگرنہ شام تمہارےہی درمیاں کرتے
امیرلوگ تھے،کچھ ظرف اُن کاچھوٹاتھا
کوئ غریب جوملتاتورازداں کرتے
فلک نےچھین لیےپل میں زندگی کےحقوق
وگرنہ عزم سےذرّوں کوکہکشاں کرتے
نہ کوئ عدل کامیزان تھا،نہ منصف تھے
غمِ حیات کاہم فیصلہ کہاں کرتے؟
اگرعزیزتھاکوئ تمام دنیاسے
تودھیرےدھیرےزمانےکوہم زباں کرتے
کھڑاہےآج بھی گھرساراکچی اینٹوں پر
"کٹی ہےعمرلہواپنارائیگاں کرتے"
ہمارےنام کو"دہشت" سےجوڑنےوالو!
گزاری ہم نےہے"بھارت" کوگلستاں کرتے
کسی کےجھوٹ کوسچ کالباس پہناکر
بتاؤکیسےمقدرکوبےنشاں کرتے؟
زبان بندتھی،آنکھیں چھلک رہی تھیں "شفیق"
ہم اس کےبعدبھلااُن سےکیابیاں کرتے؟
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں