بدھ، 23 اگست، 2017

غزل : نصر بلخی

غزل
نصر بلخی

سروں پہ باندھے کفن تیرے جانثار آئے
وہ ایک بار نہیں آئے بار بار آئے

منافقت کو بنایا ہے اپنا طرز عمل
مری طرف سے کسی دل پہ کیوں غبار آئے

ہم اہلِ شوق ہیں، صحرا نشیں ہیں دشت نورد
ستارے فرشِ گزر گرچہ بے شمار آئے

کہ زندگی کی صداقت کو جانتا ہے وہی
غم حسین ہو اور کیوں نہ اشک بار آئے

دہائی دیتے ہیں اپنی وہ جانثاری کی
کہ قتل گاہ وفا سے وہ شرمسار آئے

رہِ وفا میں عجب اضطراب جاں تھا نصر
قریب جتنے ہوئے اور بے قرار آئے

غزل: امام قاسم ساقی

غزل

طائرِ فکر و نظر لے کر بہار آنے کو ہے 
شاعرِ اردو کے فن پر اب نکھار آنے کو ہے

شب کی چادر پر سجانے کے لئے اک کہکشاں 
جنگلوں سے  جگنوؤں کی اک قطار آنے کو ہے

ٹہنیاں یوں  لے رہی ہیں جھوم کر  انگڑائیاں 
جیسے گلشن میں نویدِ نو  بہار آنے کو ہے

اے زمیں !  ہے  سر خمیدہ کیوں یہ تیرا آسماں 
کیا تری بیتابیوں  کو اب قرار آنے کو ہے ؟

اوڑھ کر علم و ہنر کی کہکشاں اے ساقیا !
انجمن سے جاکے کہدے  خاکسار آنے کو ہے

امام قاسم ساقی

نعت پاک : واحد نظیر

واحد نظیر

جو دشمنِ رسول تھے وہ خوار ہو گئے
شاہانِ وقت ، ان کے وفا دار ہو گئے

حالات خود حریفِ شبِ تار ہو گئے
ظلمت کے جتنے حربے تھے بے کار ہو گئے

بخشا مرے رسول نے وہ طرزِ زندگی
صحرا کے گاؤں شہر کا معیار ہو گئے

فیضانِ مصطفیٰ کی یہ زندہ مثال ہے
موضوعِ نعت گنبد و مینار ہو گئے

خیرات شہرِ علم کی چوکھٹ سے مل گئی
الفاظ اپنے لائقِ اظہار ہو گئے

تشریحِ ما رَمیتَ سے یہ بھی ہنر کھلا
حمدِ خدا میں نعت کے اشعار ہو گئے

منگتوں کو یوں نظیر شہنشاہ نے دیا
جو تھے فقیر وہ بھی دُرَر بار ہو گئے

....... بزم غزل.......

جمعرات، 3 نومبر، 2016

کھائی:: انجمن اختر

ایک کوشش

*کھائ*

''کہاں جا رہی ہو بی، مرنا ہے کیا!"
کسی نے اچانک ہوری طاقت سے اسے پیچھے کھینچا.
وہ جیسے نیند سے جاگی.
"اتنی بڑی کھائ ہے، دکھتا نہیں کیا!"
راہگیر جنھجھلا کر بولا اور اپنے راستے بڑھ گیا.
لفظ 'کھائ'....
اس کے دماغ میں جھنجناہٹ سی ہوئ. کئ مختلف آوازیں فضا میں گونجنے لگیں. "تم جس راہ پہ چل پڑی ہو سیدھے کھائ میں گروگی."
"یہ راستہ منزل کی طرف نہیں کھائ کی طرف جاتا ہے."
"تم نے خود کھائ کاانتخاب کیا ہے. کبھی پلٹ کر وآپس مت آنا."
سچ ہے. بھلا کھائ میں گرنے کے باد کوئ واپس آیا ہے!!
وہ بھی تو نہیں پلٹ سکی تھی واپس.
ماڈلنگ کی چکاچوندھ دنیا سے جہاں شہرت اور بلندی کی گہری کھائ تھی.وہ جتنا اوپر اٹھتی گئ اتنی ہی زیادہ پستی اس کا مقدر بنتی چلی گئ. کھائ میں گرے بےجان وجود کی طرح اب اس کے بھی تمام احساس مر چکے تھے. فقط سانسوں کا بھاری بوجھ سینے پہ دھرا تھا.
اس نے ایک بار پھر کھائ کی طرف قدم بڑھا دیے.

*انجمن اختر*

منگل، 1 نومبر، 2016

نظم :: زارا فراز

*نظم :*
*عنوان : "صیاد"*
*تحریر : زارا فراز*

میرے صیاد
میں تیرے طلسمی دیس کی داسی ہوں
بہت دنوں، تیرے وجود کے گوشے میں
قید رہی
تم نے میرے پرواز کے پر
کاٹ ڈالے تھے
آج جب میرے نئے پر نکل آئے تو
تم نے بھی مجھے
آزادی کا پروانہ دے دیا
مگر قسمت کی ستم ظریفی دیکھو
میں اڑنا بھول چکی ہوں

نظم : کامران غنی صبا

*ایک نظم*
*آج کے اخبارات کی شہ سرخی سے متاثر ہو کر*

گھروں کے تالے
جب لکڑی کی جابی سے کھلیں
اور اسٹیل کے برتن سے قتل عام ہو
تو جان لو
خطرہ ہی خطرہ ہے
یقیناً گھر کے اندر ہی
کوئی تو ہے
جو گھر کے راز کو
چادر کے کونے میں دبا کر
آہنی دیوار سے باہر
گھما کر پھینک دیتا ہے
اور اس کے بعد
اخباروں کے پہلے پیج پر
گھر کی تباہی کے
بڑے دلدوز منظر رقص کرتے ہیں
ہمارے گھر کو خطرہ ہے
مکیونوں سے کمینوں سے

کامران غنی صبا

نظم:: بے چہرہ وجود کی غرض

*تحریر :--- زارافراز*

*"بے چہرہ وجود کی غرض"*

ٹھہرو میں تم کو اس کی کہانی سناتی ہوں
وہ کیوں تمہاری ذات کا حصہ بننا چاہتی ہے
" یہ تو پرانی بات ہے کہ
انسان کچھ پانے کی تلاش میں
اپنے "میں " کو کھو دیتا ہے
اس نے بھی خود کو کھو دیا ہے
مگر اب وہ اردو زبان کے بازو تھامے،
لفظوں کے بازار کی روشن پیشانی جیسی شبنمی زمین پر
دو زانوں بیٹھی،شہر ذات کی گویائی
چن رہی ہے
اس کی ذات میں پہلا ادراک
ان کٹی ہوئی انگلیوں کی قسمت کا ہوا
جو قلم اٹھانے کے جرم میں
جسم سے جدا کر دی گئیں تھیں
اس کی آنکھیں اب بھی سلامت ہیں
وہی اس کی گہری دوست بھی ہیں
وہ ان دوست آنکھوں سے
کہانیوں کے " کالبد" کو
چھونا چاہتی ہے
اور شاید تمہاری ذات میں پنپ کر
اپنا " پہلا جنم " کا
استحصال چاہتی ہے
اب وہ اس اعتراف سے نہیں ڈرتی
کہ
اس نے چاہت میں
غرض کو شامل کر لیا ہے
یہ وہی ہے جو نقاب رخ سے
چہرہ اتار کر
بے چہرہ وجود کے ساتھ
تمہارے سامنے کھڑی
تم سے آنکھیں ملا ک
بات کرتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔