زھر زباں کافی ھے نفرت کے دئے جلنے کے لئے
نئے فتنے جگانے کے لئے نئے جال بننے کے لئے
شیطان نے جنگ ھاری ھے موت ابھی باقی ھے
مشورے ھوںگے انکے نئے خواب دکھنے کے لئے
وہ کیا جانیں عشق کیا بلاھے وفا کیا ھے
ھم تو ھردم تیار بیٹھے ھیں وطن پر مرنے کے لئے
ٹوٹے گی انا ان کی مٹ جائیگا بھرم انکا
جو رکھتے ھیں مزاج طفلانہ ھر ضد پہ مچلنے کے لئے
رواداری اور ھنر چاھئے ھر حکم یزدانی کے لئے
کہتے ھیں وہ کافر اور اس احمد عاشق ھند سے
گوشت خوری چھوڑنی ھوگی وطن میں رھنے کے لئے
احمد عثمانی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں