ہفتہ، 28 نومبر، 2015

احمد عثمانی کی غزل

زھر زباں کافی ھے نفرت کے دئے جلنے کے لئے
نئے فتنے جگانے کے لئے نئے جال بننے کے لئے

شیطان نے جنگ ھاری ھے موت ابھی باقی ھے
مشورے ھوںگے انکے نئے خواب دکھنے کے لئے

وہ کیا جانیں عشق کیا بلاھے وفا کیا ھے
ھم تو ھردم تیار بیٹھے ھیں وطن پر مرنے کے لئے

ٹوٹے گی انا ان کی مٹ جائیگا بھرم انکا
جو رکھتے ھیں مزاج طفلانہ ھر ضد پہ مچلنے کے لئے

رواداری اور ھنر چاھئے ھر حکم یزدانی کے لئے

کہتے ھیں وہ کافر اور اس احمد عاشق ھند سے
گوشت خوری چھوڑنی ھوگی وطن میں رھنے کے لئے

احمد عثمانی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں