ہفتہ، 28 نومبر، 2015

صدارتی کلمات:شہاب ظفر اعظمی

صدارتی کلمات
ذی وقار شعرائے کرام اور معزز سامعین عظام!
سب سے پہلے ایک خوب صورت اور معیاری بین الاقوامی طرحی مشاعرے کی تکمیل پر آپ سب کو بہت بہت مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ آپ سب نے اپنے یاد گار کلام کی پیش کش اور گرم جوش سماعت سے نہ صرف محفل کو گرمائے رکھا بلکہ ایک خوشگوار ماحول میں مشاعرے کو تاریخی اہمیت عطا کرنے میں گراں قدر تعاون عطا کیا۔
حضرات! مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی تامل نہیں کہ بہت کم وقت میں ”بزم غزل“نے اپنی سرگرمیوں سے بین الاقوامی سطح پر نہ صرف یہ کہ شناخت قائم کر لی ہے بلکہ اردو زبان و ادب کی اشاعت میں یہ بزم جو کردار ادا کر رہی ہے اسے ہماری تاریخ فراموش نہیں کر سکے گی۔ زبان کے فروغ کے لئے وقت کے تقاضوں کو سمجھنا اور اس کی مناسبت سے اقدام کرنا زبان سے محبت کی علامت ہے۔ مجھے یاد آتا ہے کہ پروفیسر اسرائیل رضا صاحب نے ایک مشاعرے کی صدارت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ”انفارمیشن ٹکنالوجی کے اِس زمانے میں ہمیں شعر و سخن کے بحر ذخار میں غواصی کرتے ہوئے اردو کی نئی نئی دنیاﺅں میں بھی زور دار دستک دینی ہے۔“ مجھے بھی لگتا ہے کہ زبان و ادب کے ارتقا کے لئے کی جانے والی روایتی کوششوں کے ساتھ ساتھ ہم عصر نئے ذرائع اور وسائل کا استعمال بھی فروغ زبان کے لئے نہایت ضروری ہے۔ مثلاً کسی زمانے میں ہمارے بچوں کے ہاتھوں میں کہانی اور کامکس کی کتابیں ہوتی تھیں مگر آج انہیں ہاتھوں میں لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ، موبائل اور دیگر ڈیجیٹل گیجیٹس ہوتے ہیں۔ ایسے میں انہیں اردو زبان کی طرف راغب کرنے کے لئے ضرور ہے کہ ہم کارٹون، کامکس اور گیمز ڈیجیٹل اردو میں منتقل کر کے ان تک پہنچائیں تاکہ کتابوں سے رشتہ ختم ہونے کے باجود وہ اردو سے اپنا رشتہ استوار رکھیں اور اردو زبان کی طرف ان کی دلچسپی منتقل ہو۔
میں ”بزم غزل“ اور ”بزم ادب“ کی ستائش اس لئے بھی کرتا ہوں کہ ان کے ذریعہ عدیم الفرصت سامعین و قارئین کی آنکھوں کا رشتہ سفر و حضر، اور خلوت و جلوت میں کم از کم اردو زبان و ادب سے قائم ہے۔ میں اس کے لئے بزم غزل کے تمام بنیاد گزاروں بالخصوص جناب ایم آر چشتی، محترم احمد اشفاق، ڈاکٹر منصور خوشتر اور جناب کامران غنی صبا کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ ان کی کاوشوں سے شعر و سخن کی یہ بزم فروزاں ہے اور اس کا حلقہ وسیع سے وسیع تر ہو رہا ہے۔میں ان کا شکریہ بطور خاص اس لئے بھی کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے اس بین الاقوامی طرحی مشاعرہ کے لئے مجھ جیسے ادب کے ادنیٰ طالب علم کو ”عہدئہ صدارت“ کے اعزاز سے نوازا۔ اللہ ان کی اردو دوستی کو برقرار رکھے اور انہیں صحت، سلامتی اور ترقی¿ درجات عطا فرمائے۔
میں اُن معزز اور منتخب شعرا و شاعرات اور باذوق سامعین و سامعات کا بھی ممنون ہوں جنہوں نے آج کے طرحی مشاعرے کو تاریخ ساز بنانے میں اہم کردار ادا کیا ۔ اب مشاعرے کے اختتام کا اعلان کرتے ہوئے آپ سے اجازت چاہتا ہوں۔ اس گزارش کے ساتھ کہ
نہ تھک کے بیٹھ کے تیری اُران باقی ہے
زمین ختم ہوئی آسمان باقی ہے

شہاب ظفر اعظمی
سیکٹر ڈی، نیو عظیم آباد کالونی، پٹنہ (بہار)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں