ہفتہ، 28 نومبر، 2015

اسقبالیہ کلمات:کامران غنی صبا

استقبالیہ کلمات
معزز حاضرین کرام!
’بزم غزل‘ نے بہت جلد ہی بین الاقوامی سطح پر اپنی ایک شناخت قائم کر لی ہے۔ ایم آر چشتی کے خوابوں کا یہ گلشن اپنی پوری رعنائیوں کے ساتھ دنیائے علم و ادب کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔احمد اشفاق اور ڈاکٹر منصور خوشتر کی کاوشوں نے اسے بلندیوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔پروفیسر عبد المنان طرزی، ڈاکٹر اسرائیل رضا، ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی، احمد عثمانی، ڈاکٹر عبدالحنان سبحانی، ڈاکٹر زرنگار یاسمین،حبیب مرشد خان،مرغوب اثر فاطمی، نیاز نذر فاطمی، جمیل اختر شفیق، منصور قاسمی، نور جمشید پوری، اعجاز انور، اصغر شمیم، مصداق اعظمی، چونچ گیاوی،ایم رضا مفتی، انعام عازمی، جمیل ارشد خان، جلیل ارشن خان، فاطمہ عثمانی سمیت گروپ کے سبھی معزز اراکین گروپ کو مقبول بنانے میں اپنا بھر پور تعاون دیا ہے۔بات مشاعروں کی ہو یا اعزازی نشستوں کی، بزم غزل کے سبھی پروگراموں کی کامیابی میں آپ سبھی کی حصہ داری رہی ہے۔
حاضرین کرام!
بزم غزل کی تشکیل کا مقصد صرف شعرو شاعری کی محفلوں کا انعقاد نہیں ہے۔ انفارمیشن ٹکنالوجی کے اس عہد میں کہ جب تشنگان علم و ادب کتابوں سے زیادہ برقی مواصلات کی طرف راغب ہو رہے ہیں، ہماری یہ کوشش ہے کہ ہم ترسیل کے جدید مواصلات کو اتنا مضبوط اور معیاری بنا دیں کہ نئی نسل ”اس نئی دنیا“ میں گھٹن سی محسوس نہ کرے۔ ہمیں یہ خوشی ہے کہ ہم اپنی اس کوشش میں بہت حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔ ہماری کامیابی کا یہ ثبوت ہی تو ہے کہ ”بزم غزل“ کی طرز پرواٹس ایپ پر ہی کئی ایک گروپ تشکیل دئیے جا چکے ہیں۔ واٹس ایپ مشاعروں کی جو روایت بزم غزل نے شروع کی تھی اسے بھی دوام حاصل ہو رہا ہے۔
’بزم غزل‘ کی تشکیل کا ایک اور اہم مقصد دنیا کے مختلف خطوں میں آباد شعراءشاعرات کو ایک جگہ جمع کرنا تھا۔الحمد للہ ہم اس کوشش میں بھی کامیاب رہے ہیں۔ ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ بیرون ممالک میں مقیم شعراءشاعرات کی وطن سے دوری کے احساس کو بزم غزل نے بہت حد تک کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
’بزم غزل‘ کی تشکیل کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ نئی نسل کے شاعروں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور انہیں اپنے فن کو بروئے کار لانے کا موقع فراہم کیا جائے۔ نیز ایسے شاعر جنہوں نے کسی وجہ سے ”خاموشی کی ردا“ اوڑھ لی ہے انہیں پھر سے منظر عام پر لایا جائے۔ یقینا ہم اپنی اس کوشش میں بھی صد فی صد کامیاب رہے ہیں۔عامر نظر، انعام عازمی، ایم رضا مفتی، جہانگیر نایاب، اسامہ عقیل، یوسف جمیل جیسے نوجوان شاعروں نے اپنے تخلیقات سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اردو شاعری کا مستقبل انتہائی روشن اور تابناک ہے۔ ہمیں اس بات کی بھی خوشی ہے کہ پروفیسر اسرائیل رضا، ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی، ڈاکٹر زرنگار یاسمین اور احمد عثمانی جیسے سینئر شاعروں نے بھی جنہوں نے کسی وجہ سے شاعری تقریباً ترک کر دی تھی ہماری پہل پرپھر سے شاعری کی طرف راغب ہوئے ہیں۔ خدا کرے یہ سلسلہ دراز رہے۔
حاضرین کرام! ہمارا سفر ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ وقت کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے تحت ہمیں بھی نت نئے تجربات کرنے ہیں۔آپ سب کا اسی طرح تعاون حاصل رہا تو بزم غزل کو اور بھی عروج حاصل ہوگا۔ انہیں چند کلمات کے ساتھ ہم آج کے اس خوب صور ت مشاعرہ میں آپ سب کا استقبال کرتے ہیں 
ستارے توڑ کر رک جاﺅں یہ ممکن نہیں مجھ سے
مرے پائے طلب کو آسماں کے پار جانا ہے

کامران غنی صبا

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں