ہفتہ، 28 نومبر، 2015

نصر بلخی صاحب کی غزل

غزل
نصر بلخی، پٹنہ
رابطہ:9905055746
یہ نہیں کہتا ہوں آ جاﺅ ٹھہرنے کے لئے
تم کسی روز تو مل جاﺅ بچھڑنے کے لئے
ترے جلووں کی کشاکش تری آنکھوں کا خمار
کوئی موقع نہ ملا دل کو سنبھلنے کے لئے
ہیں شہیدانِ محبت انہیں مردہ نہ کہو
شرط مرنے کی لگا دی گئی جینے کے لئے
کوچئہ عشق میں ہر سمت مصیبت کا ہجوم
حوصلہ چاہئے اس رہ سے گزرنے کے لئے
نہ ستاروں کی تمنا ہے نہ سورج کی طلب
”دل ہی کافی ہے تری یاد میں جلنے کے لئے“
حسرت و مکرو دغا، ظلم و ستم رکھا ہے
یہی اوصاف بچے دہر میں رہنے کے لئے
کتنی پر کیف و دل آویز ہے مقتل کی فضا
تو ہے شمشیر بکف، سر مرا کٹنے کے لئے
شب فرقت میں تری یاد کا مدھم سورج
کتنا بے تاب ہے تو دیکھ نکلنے کے لئے
شدت حسن کے پرتو کا اثر ہے اب تک
’طور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لئے‘
منتظر جس کا نصر تھا وہ گھڑی آئی ہے
پا بہ زنجیر ہوا خوں میں سورنے کے لئے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں