ہفتہ، 28 نومبر، 2015

کامران غنی صبا کی غزل

موم بتی کی طرح جلنے پگھلنے کے لئے
ہاں مجھے چھوڑ دیا اس نے بکھرنے کے لئے

کس قدر خوں کی ضرورت ہے ترے مقتل کو
سر بکف سیکڑوں تیار ہیں مرنے کے لئے

وحشتیں دیکھ کے ہر سمت تری دنیا کی
روح بے چین سی ہے جاں سے نکلنے کے لئے

چاہتے سب ہیں زمانے میں تغیر آئے
کوئی تیار نہیں خود کو بدلنے کے لئے

سر کچل دینا ضروری ہی نہیں لازم ہے
سانپ تیار ہے پھر زہر اگلنے کے لئے

جانے کیوں ڈرتے ہیں سب لوگ فنا ہونے سے
سچ تو یہ ہے کہ سبھی جیتے ہیں مرنے کے لئے

صرف میں ہی تو ہوں چہرہ ہے سلامت جس کا
لوگ آمادہ ہیں اس کو بھی بدلنے کے لئے

جل رہا ہوں میں سراپا تو یہ کیسے کہہ دوں
"دل ہی کافی ہے تری یاد میں جلنے کے لئے"

درد ہے، غم ہے، مصیبت ہے جفائیں ہیں صبا
اور کیا چاہئے اس دل کو بہلنے کے لئے

کامران غنی صبا

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں