موم بتی کی طرح جلنے پگھلنے کے لئے
ہاں مجھے چھوڑ دیا اس نے بکھرنے کے لئے
کس قدر خوں کی ضرورت ہے ترے مقتل کو
سر بکف سیکڑوں تیار ہیں مرنے کے لئے
وحشتیں دیکھ کے ہر سمت تری دنیا کی
روح بے چین سی ہے جاں سے نکلنے کے لئے
چاہتے سب ہیں زمانے میں تغیر آئے
کوئی تیار نہیں خود کو بدلنے کے لئے
سر کچل دینا ضروری ہی نہیں لازم ہے
سانپ تیار ہے پھر زہر اگلنے کے لئے
جانے کیوں ڈرتے ہیں سب لوگ فنا ہونے سے
سچ تو یہ ہے کہ سبھی جیتے ہیں مرنے کے لئے
صرف میں ہی تو ہوں چہرہ ہے سلامت جس کا
لوگ آمادہ ہیں اس کو بھی بدلنے کے لئے
جل رہا ہوں میں سراپا تو یہ کیسے کہہ دوں
"دل ہی کافی ہے تری یاد میں جلنے کے لئے"
درد ہے، غم ہے، مصیبت ہے جفائیں ہیں صبا
اور کیا چاہئے اس دل کو بہلنے کے لئے
کامران غنی صبا
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں