غزل
چل دئیے چھوڑ کے وہ بحر میں مرنے کے لئے
اور طلاطم سے میں لڑتا رہا جینے کے لئے
وقت مشکل ہو تو سایہ بھی دغا دیتا ہے
سارے ہمدرد و مددگار ہیں کہنے کے لئے
ہاں مسافر ہوں میں شب بھر کا چلا جائو گا
نہیں آیا ہوں تیرے شہر میں رہنے کے لئے
اب چراغوں کا جلانے کی ضرورت ہی نہیں
"دل ہی کافی ہے تری یاد میں جلنے کے لئے"
قمریاں شاخ پہ بیٹھی ہوئیں کچھ گاتی ہی رہیں
ہجر کے گیت نہیں تھا کوئی سننے کے لئے
گلشن غیر میں کھلنا تھا کھلا ،قسمت ہے
مری قسمت میں کہاں پھول ہیں کھلنے کے لئے
اٹھ کے منصور سحر گاہی میں چپکے چپکے
رب سے مانگی تھیں دعائیں اسے پانے کے لئے
منصور قاسمی ،سعودی عرب
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں