ہفتہ، 28 نومبر، 2015

نور جمشید پوری صاحبہ کی غزل اور انکا ایک قطعہ

قطعہ:
بن کے پھر مشک مہک اٹھے گا یہ جسم مرا
خاک مل جائے مدینے کی جو ملنے کے لئے
بوجھ لے کر یہ گناہوں کا کہاں جاؤں خدا
سبز گنبد کا مجھے سا یہ دے پلنے کے لئے
،،،،،،،،،،

غزل
،،،،
رنگ جیون میں مرے آیا تھا بھرنے کے لئے
رچ رہا سازشیں اب مجھ کو کچلنے کے لئے
،،،،،،،،
آسماں دیکھا تھا کل جس نے نظر سے میری
آج تیار مرے پنکھ کترنے کے لئے
،،،،،،،،
ہر طرف اٹھنے لگے ظلم کے شعلے یارو
تم بھی تیار رہو آگ پہ چلنے کے لئے
،،،،،،،
غیر تو غیر یہاں دیکھ رہے اپنے ہی
خون سے ہاتھ چلے آتے ہیں رنگنے کے لئے
،،،،،،
جس پہ لازم تھی حفاظت وہی مالی اس کا
کتنا بے چین ہوا کلیاں مسلنے کے لئے
،،،،،،،،
میرے ڈگ مگ سے قدم دیکھ کے نہ ہاتھ بڑھا
مجھ کو کافی ہے دعا ماں کی سنبھلنے کے لئے
،،،،،،،
تیرگی ڈس ہی لیا کرتی ہے سورج کو مگر
ہر صبح رہتا ہے تیار نکلنے کے لئے
،،،،،،،،
پیار، اخلاص،محبت میں وفا کی خوشبو
زیست کو چاہیے ہم سب کی، نکھرنے کے لئے
،،،،،،
کفر کی آندھیوں نہ مجھ کو ڈراؤ میں تو
دین کی راہ میں تیار ہوں مرنے کے لئے
،،،،،،،
منتظر شام سے وہ کیسے نہ رہتا میرا
چاند کو چا ہئے تھا نور سنورنے کے لئے

نور جمشید پوری

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں