ہفتہ، 28 نومبر، 2015

اصغر شمیم صاحب کی تخلیق

برائے بین الاقوامی آن لائن طرحی مشاعرہ

غزل

دل تو دل ہے مرے یار مچلنے کے لئے
رو برو آئینہ رکھا ہے سنورنے کے لئے

اب چراغوں کی ضرورت ہی نہیں شام ڈھلے
"دل ہی کافی ہے تری یاد میں جلنے کے لئے"

لوگ ہموار زمیں پر تو چلا کرتے ہیں
سنگ ریزوں پہ ہنر چاہئیے چلنے کے لئے

میں خلاؤں میں اڑوں گا تو مری خیر نہیں
تاک میں بیٹھا ہے وہ پر کو کترنے کے لئے

کتنے اسرار ہیں پوشیدہ تہہ خاک شمیم
ہم بھی بے تاب ہیں اس خاک میں ملنے کے لئے

اصغر شمیم
کولکتہ،  مغربی بنگال

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں