برائے بین الاقوامی آن لائن طرحی مشاعرہ
غزل
دل تو دل ہے مرے یار مچلنے کے لئے
رو برو آئینہ رکھا ہے سنورنے کے لئے
اب چراغوں کی ضرورت ہی نہیں شام ڈھلے
"دل ہی کافی ہے تری یاد میں جلنے کے لئے"
لوگ ہموار زمیں پر تو چلا کرتے ہیں
سنگ ریزوں پہ ہنر چاہئیے چلنے کے لئے
میں خلاؤں میں اڑوں گا تو مری خیر نہیں
تاک میں بیٹھا ہے وہ پر کو کترنے کے لئے
کتنے اسرار ہیں پوشیدہ تہہ خاک شمیم
ہم بھی بے تاب ہیں اس خاک میں ملنے کے لئے
اصغر شمیم
کولکتہ، مغربی بنگال
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں