ﺩﺭﺑﮭﻨﮕﮧ ( ﮐﺎﻣﺮﺍﻥ ﻏﻨﯽ ) ﻭﺍﭨﺲ ﺍﯾﭗ ﮔﺮﻭﭖ ’ ﺑﺰﻡ ﻏﺰﻝ ’ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺷﺎﻧﺪﺍﺭ ﺑﯿﻦ ﺍﻻﻗﻮﺍﻣﯽ ﻃﺮﺣﯽ ﻣﺸﺎﻋﺮﮦ ﮐﺎ ﺍﮨﺘﻤﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﻣﺸﺎﻋﺮﮦ ﮐﯽ ﺻﺪﺍﺭﺕ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺷﮩﺎﺏ ﻇﻔﺮ ﺍﻋﻈﻤﯽ ﻧﮯ ﮐﯽ ﺟﺒﮑﮧ ﻧﻈﺎﻣﺖ ﮐﺎ ﻓﺮﯾﻀﮧ ﻣﺸﺘﺮﮐﮧ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺷﺎﻋﺮ ﺍﯾﻢ ﺭﺿﺎ ﻣﻔﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﻋﺎﺯﻣﯽ ﻧﮯ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﯾﺎ۔
ﺍﺳﺘﻘﺒﺎﻟﯿﮧ ﮐﻠﻤﺎﺕ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﺎﻣﺮﺍﻥ ﻏﻨﯽ ﺻﺒﺎ ﻧﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺷﺮﮐﺎ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻘﺒﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺰﻡ ﻏﺰﻝ ﮐﯽ ﮐﺎﺭﮐﺮﺩﮔﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻏﺮﺍﺽ ﻭ ﻣﻘﺎﺻﺪ ﭘﺮ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺳﮯ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮈﺍﻟﯽ۔ﻣﺸﺎﻋﺮﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﻋﺎﺯﻣﯽ، ﺍﯾﻢ ﺭﺿﺎ ﻣﻔﺘﯽ، ﺟﻤﺎﻝ ﺁﺭﺯﻭ، ﮐﯿﻒ ﺍﺣﻤﺪ ﮐﯿﻔﯽ، ﯾﻮﺳﻒ ﺟﻤﯿﻞ، ﺍﻋﺠﺎﺯ ﺍﻧﻮﺭ، ﺑﺸﺮ ﺭﺣﯿﻤﯽ، ﻧﺼﺮ ﺑﻠﺨﯽ، ﺍﺣﻤﺪ ﻋﺜﻤﺎﻧﯽ، ﺍﺻﻐﺮ ﺷﻤﯿﻢ ، ﻧﯿﺎﺯ ﻧﺬﺭ ﻓﺎﻃﻤﯽ، ﻣﺮﻏﻮﺏ ﺍﺛﺮ ﻓﺎﻃﻤﯽ، ﻣﻨﺼﻮﺭ ﻗﺎﺳﻤﯽ، ﻧﻮﺭ ﺟﻤﺸﯿﺪﭘﻮﺭﯼ، ﮐﺎﻣﺮﺍﻥ ﻏﻨﯽ ﺻﺒﺎ، ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻣﻨﺼﻮﺭ ﺧﻮﺷﺘﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﻢ ﺁﺭ ﭼﺸﺘﯽ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻼﻡ ﭘﯿﺶ ﮐﺌﮯ۔ ﺻﺪﺍﺭﺗﯽ ﮐﻠﻤﺎﺕ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺷﮩﺎﺏ ﻇﻔﺮ ﺍﻋﻈﻤﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺯﺑﺎﻥ ﻭ ﺍﺩﺏ ﮐﮯ ﺍﺭﺗﻘﺎ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺭﻭﺍﯾﺘﯽ ﮐﻮﺷﺸﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻢ ﻋﺼﺮ ﻧﺌﮯ ﺫﺭﺍﺋﻊ ﺍﻭﺭ ﻭﺳﺎﺋﻞ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ۔
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﺰﻡ ﻏﺰﻝ ﮐﯽ ﺳﺘﺎﺋﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﺑﺰﻡ ﻏﺰﻝ ﮐﮯ ﺗﻮﺳﻂ ﺳﮯ ﻋﺪﯾﻢ ﺍﻟﻔﺮﺻﺖ ﺳﺎﻣﻌﯿﻦ ﻭ ﻗﺎﺭﺋﯿﻦ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﺎ ﺭﺷﺘﮧ ﺳﻔﺮ ﻭ ﺣﻀﺮ ﺍﻭﺭ ﺧﻠﻮﺕ ﻭ ﺟﻠﻮﺕ ﻣﯿﮟ ﺯﺑﺎﻥ ﻭ ﺍﺩﺏ ﺳﮯ ﻗﺎﺋﻢ ﮨﮯ۔ ﻣﺸﺎﻋﺮﮦ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﻭﻓﯿﺴﺮ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﺭﺿﺎ، ﺍﺣﻤﺪ ﺍﺷﻔﺎﻕ، ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﺤﻨﺎﻥ ﺳﺒﺤﺎﻧﯽ، ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻭﺍﺣﺪ ﻧﻈﯿﺮ،ﺷﻤﯿﻢ ﻗﺎﺳﻤﯽ، ﺍﻓﺮﻭﺯ ﻋﺎﻟﻢ، ﺍﻧﺠﻤﻦ ﺍﺧﺘﺮ، ﺍﻧﻮﺭ ﺁﻓﺎﻗﯽ،ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺍﺭﺷﺪ ﺍﺳﻠﻢ، ﺁﺻﻒ ﻧﻮﺍﺯ،ﺟﮩﺎﻧﮕﯿﺮ ﻧﺎﯾﺎﺏ،ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻣﻈﻔﺮ ﺑﻠﺨﯽ، ﺟﻤﯿﻞ ﺍﺭﺷﺪ ﺧﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﯾﻢ ﺍﺣﻤﺪ ﻋﺜﻤﺎﻧﯽ، ﺳﻤﯿﺖ ﮐﺜﯿﺮ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮﯾﻦ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﮯ۔ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺯﺭﻧﮕﺎﺭ ﯾﺎﺳﻤﯿﻦ ﮐﮯ ﺷﮑﺮﯾﮧ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺸﺎﻋﺮﮦ ﮐﮯ ﺧﺎﺗﻤﮧ ﮐﺎ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ۔
ﻣﺸﺎﻋﺮﮦ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺶ ﮐﺌﮯ ﮔﺌﮯ ﮐﻼﻡ ﮐﺎ ﻣﻨﺘﺨﺐ ﺣﺼﮧ ﻗﺎﺭﺋﯿﻦ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﯾﻢ ﺁﺭ ﭼﺸﺘﯽ
ﭼﺮﺥ ﺍﻣﯿﺪ ﭘﮧ ﭘﮭﺮ ﺁﺝ ﻧﺌﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﮐﺎ
ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺭﺷﯿﺪ ﮨﮯ ﺑﯿﺘﺎﺏ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ
ﮐﺎﻣﺮﺍﻥ ﻏﻨﯽ ﺻﺒﺎ
ﭼﺎﮨﺘﮯ ﺳﺐ ﮨﯿﮟ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﻐﯿﺮ ﺁﺋﮯ
ﮐﻮﺋﯽ ﺗﯿﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺑﺪﻟﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ
ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻣﻨﺼﻮﺭ ﺧﻮﺷﺘﺮ
ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺎ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﻭﮞ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﺛﺒﻮﺕ
” ﺩﻝ ﮨﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﮨﮯ ﺗﺮﯼ ﯾﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ”
ﻣﺮﻏﻮﺏ ﺍﺛﺮ ﻓﺎﻃﻤﯽ
‘ ﮐﯿﻨﻮﺱ ’ ﭘﺮ ﮨﮯ ﺗﺼﻮﺭ ﮐﯽ ﺗﺮﺍﺷﯽ ﺻﻮﺭﺕ
ﺍﺏ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﮐﻮ ﮨﮯ ﻓﻨﮑﺎﺭ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ
ﻧﺼﺮ ﺑﻠﺨﯽ
ﺷﺐ ﻓﺮﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﯼ ﯾﺎﺩ ﮐﺎ ﻣﺪﮬﻢ ﺳﻮﺭﺝ
ﮐﺘﻨﺎ ﺑﮯ ﺗﺎﺏ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ
ﺍﺻﻐﺮ ﺷﻤﯿﻢ
ﻟﻮﮒ ﮨﻤﻮﺍﺭ ﺯﻣﯿﮟ ﭘﺮ ﺗﻮ ﭼﻼ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺳﻨﮓ ﺭﯾﺰﻭﮞ ﭘﮧ ﮨﻨﺮ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﭼﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ
ﻧﯿﺎﺯ ﻧﺬﺭ ﻓﺎﻃﻤﯽ
ﮐﻮﺋﯽ ﺷﻤﻊ، ﮐﻮﺋﯽ ﻗﻨﺪﯾﻞ، ﻧﮧ ﺳﮕﺮﯾﭧ ﮐﻮﺋﯽ
ﺩﻝ ﮨﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﮨﮯ ﺗﺮﯼ ﯾﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ
ﻧﻮﺭ ﺟﻤﺸﯿﺪﭘﻮﺭﯼ
ﮨﺮ ﻃﺮﻑ ﺍﭨﮭﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﻇﻠﻢ ﮐﮯ ﺷﻌﻠﮯ ﯾﺎﺭﻭ
ﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﺗﯿﺎﺭ ﺭﮨﻮ ﺁﮔﮯ ﭘﮧ ﭼﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ
ﺍﺣﻤﺪ ﻋﺜﻤﺎﻧﯽ
ﺷﺮﻁ ﺍﯾﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻟﮕﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﻭﮦ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ
ﮔﻮﺷﺖ ﻣﺖ ﮐﮭﺎﺋﯿﮯ ﺍﺱ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ
ﻣﻨﺼﻮﺭ ﻗﺎﺳﻤﯽ
ﻭﻗﺖ ﻣﺸﮑﻞ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺳﺎﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺩﻏﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ
ﺳﺎﺭﮮ ﮨﻤﺪﺭﺩﺭ ﻭ ﻣﺪﺩﮔﺎﺭ ﮨﯿﮟ ﮐﮩﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ
ﺍﻋﺠﺎﺯ ﺍﻧﻮﺭ
ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﻧﮩﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺎ ﺟﺎﻭ ﻣﻠﮯ ﮔﯽ ﭨﮭﻨﮉﮎ
ﺑﮯ ﻭﺟﮧ ﻧﮑﻠﻮ ﻧﮧ ﺗﻢ ﺩﮬﻮﭖ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ
ﺍﯾﻢ ﺭﺿﺎ ﻣﻔﺘﯽ
ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﺴﯿﺤﺎﺋﯽ ﮐﻮ ﮐﻮﻥ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ
ﺩﻭﺳﺖ ﺗﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﮔﺌﮯ ﺩﺷﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ
ﺍﻧﻌﺎﻡ ﻋﺎﺯﻣﯽ
ﺗﻢ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﻤﻊ ﺟﻼ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﻮ
ﮨﻢ ﺗﻮ ﭘﺮﻭﺍﻧﮯ ﮨﯿﮟ ﺁ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ
ﺑﺸﺮ ﺭﺣﯿﻤﯽ
ﺍﯾﮏ ﺩﻟﮩﻦ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺭﻭ ﺭﻭ ﮐﮯ ﮐﮩﺎ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺳﮯ
ﺍﺏ ﻧﮧ ﺟﺎﺋﻮﮞ ﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﺴﺮﺍﻝ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ
ﯾﻮﺳﻒ ﺟﻤﯿﻞ
ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﯽ ﺧﻄﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﮍﯼ
ﺍﯾﮏ ﻣﻮﻗﻊ ﺗﻮ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺳﻨﺒﮭﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ
ﮐﯿﻒ ﺍﺣﻤﺪ ﮐﯿﻔﯽ
ﮐﻮﺋﯽ ﺟﮕﻨﻮ، ﮐﻮﺋﯽ ﻣﮩﺘﺎﺏ ﮐﮩﺎﮞ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺩﻝ ﮨﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﮨﮯ ﺗﺮﯼ ﯾﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ
اتوار، 29 نومبر، 2015
ﺑﺰﻡ ﻏﺰﻝ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﺑﯿﻦ ﺍﻻﻗﻮﺍﻣﯽ ﻃﺮﺣﯽ ﻣﺸﺎﻋﺮﮦ ﮐﺎ ﺍﻧﻌﻘﺎﺩ
ہفتہ، 28 نومبر، 2015
اظہار تشکر:ڈاکٹر زرنگار یاسمین
اظہار تشکر! از- "ڈاکٹر زر نگار یاسمین" معزز صدر و شعراء کرام اور دانشوران شعر وادب! "بزم غزل" کے زیر اہتمام یہ پانچواں آنلائن عالمی مشاعرہ اپنی ایک اور گہری چهاپ چهوڑتے ہوئے اب اپنے اختتام کو پہنچا- اس طرحی مشاعرہ کی عظیم الشان کامیابی کا اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قدرے مشکل طرحی مصرع کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں شعراء کرام نے اپنے اپنے طور پر نہایت ہی عمدہ،معیاری اور نفیس طرحی کلام پیش کیا اور با ذوق حضرات نے بهی دل کهول کر داد و تحسین کی ڈالیاں نچهاور کیں- میں بطور خاص ڈاکٹر شہاب ظفر آعظمی کی شکر گذار هوں جنہوں نے اپنی عالمانہ صدارت سے اس عظیم الشان طرحی مشاعرے کو رونق بخشی- بزم غزل کا یہ پودا جسے محترم احمد اشفاق، ایم آر چشتی، ڈاکٹر منصور خوشتر اور کامران غنی صبا نے باہم مل کر لگایا اور پروفیسر عبد المنان طرزی ، پروفیسر اسرائیل رضا کی سرپرستی میں ذی وقار شعراء کرام، دانشوران شعر و ادب اور با ذوق سخن شناسوں نے جس طرح اس کی آبیاری کی، اسے سجایا اور سنوارا، اس سے ثمر بار هوکر اب یہ اپنی شہرت اور مقبولیت کی ہفت خواں طے کر رہی ہے- میں بزم غزل کی جانب سے اپنے تمام مداحوں اور قدر دانوں کا صمیم قلب سے ہدیئہ تشکر پیش کرتی ہوں، الله اسے نظر بد سے محفوظ رکهے اور جس خلوص دل سے اردو زبان وادب کی ترویج واشاعت میں یہ سرگرم عمل ہے اس میں مسلسل کامیابی و کامرانی عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین! انہیں چند کلمات کے ساتهہ اب آخر میں آپ تمام کہکشان علم وادب کا ایک بار پهر شکریہ ادا کرتی هوں-
صدارتی کلمات:شہاب ظفر اعظمی
صدارتی کلمات
ذی وقار شعرائے کرام اور معزز سامعین عظام!
سب سے پہلے ایک خوب صورت اور معیاری بین الاقوامی طرحی مشاعرے کی تکمیل پر آپ سب کو بہت بہت مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ آپ سب نے اپنے یاد گار کلام کی پیش کش اور گرم جوش سماعت سے نہ صرف محفل کو گرمائے رکھا بلکہ ایک خوشگوار ماحول میں مشاعرے کو تاریخی اہمیت عطا کرنے میں گراں قدر تعاون عطا کیا۔
حضرات! مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی تامل نہیں کہ بہت کم وقت میں ”بزم غزل“نے اپنی سرگرمیوں سے بین الاقوامی سطح پر نہ صرف یہ کہ شناخت قائم کر لی ہے بلکہ اردو زبان و ادب کی اشاعت میں یہ بزم جو کردار ادا کر رہی ہے اسے ہماری تاریخ فراموش نہیں کر سکے گی۔ زبان کے فروغ کے لئے وقت کے تقاضوں کو سمجھنا اور اس کی مناسبت سے اقدام کرنا زبان سے محبت کی علامت ہے۔ مجھے یاد آتا ہے کہ پروفیسر اسرائیل رضا صاحب نے ایک مشاعرے کی صدارت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ”انفارمیشن ٹکنالوجی کے اِس زمانے میں ہمیں شعر و سخن کے بحر ذخار میں غواصی کرتے ہوئے اردو کی نئی نئی دنیاﺅں میں بھی زور دار دستک دینی ہے۔“ مجھے بھی لگتا ہے کہ زبان و ادب کے ارتقا کے لئے کی جانے والی روایتی کوششوں کے ساتھ ساتھ ہم عصر نئے ذرائع اور وسائل کا استعمال بھی فروغ زبان کے لئے نہایت ضروری ہے۔ مثلاً کسی زمانے میں ہمارے بچوں کے ہاتھوں میں کہانی اور کامکس کی کتابیں ہوتی تھیں مگر آج انہیں ہاتھوں میں لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ، موبائل اور دیگر ڈیجیٹل گیجیٹس ہوتے ہیں۔ ایسے میں انہیں اردو زبان کی طرف راغب کرنے کے لئے ضرور ہے کہ ہم کارٹون، کامکس اور گیمز ڈیجیٹل اردو میں منتقل کر کے ان تک پہنچائیں تاکہ کتابوں سے رشتہ ختم ہونے کے باجود وہ اردو سے اپنا رشتہ استوار رکھیں اور اردو زبان کی طرف ان کی دلچسپی منتقل ہو۔
میں ”بزم غزل“ اور ”بزم ادب“ کی ستائش اس لئے بھی کرتا ہوں کہ ان کے ذریعہ عدیم الفرصت سامعین و قارئین کی آنکھوں کا رشتہ سفر و حضر، اور خلوت و جلوت میں کم از کم اردو زبان و ادب سے قائم ہے۔ میں اس کے لئے بزم غزل کے تمام بنیاد گزاروں بالخصوص جناب ایم آر چشتی، محترم احمد اشفاق، ڈاکٹر منصور خوشتر اور جناب کامران غنی صبا کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ ان کی کاوشوں سے شعر و سخن کی یہ بزم فروزاں ہے اور اس کا حلقہ وسیع سے وسیع تر ہو رہا ہے۔میں ان کا شکریہ بطور خاص اس لئے بھی کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے اس بین الاقوامی طرحی مشاعرہ کے لئے مجھ جیسے ادب کے ادنیٰ طالب علم کو ”عہدئہ صدارت“ کے اعزاز سے نوازا۔ اللہ ان کی اردو دوستی کو برقرار رکھے اور انہیں صحت، سلامتی اور ترقی¿ درجات عطا فرمائے۔
میں اُن معزز اور منتخب شعرا و شاعرات اور باذوق سامعین و سامعات کا بھی ممنون ہوں جنہوں نے آج کے طرحی مشاعرے کو تاریخ ساز بنانے میں اہم کردار ادا کیا ۔ اب مشاعرے کے اختتام کا اعلان کرتے ہوئے آپ سے اجازت چاہتا ہوں۔ اس گزارش کے ساتھ کہ
نہ تھک کے بیٹھ کے تیری اُران باقی ہے
زمین ختم ہوئی آسمان باقی ہے
شہاب ظفر اعظمی
سیکٹر ڈی، نیو عظیم آباد کالونی، پٹنہ (بہار)
ایم آر چشتی کی غزل
غزل حاضر خدمت ہے
خون آشام اندھیروں کو نگلنے کے لئے.
چاند بیتاب ہے آنگن میں اترنے کے لئے
Khoon aashaam andheron ko nigalne ke liye.
Chand betaab hai Aangan me utarne ke liye.
اب یہ عالم ہے کہ ہر روز ترس جاتے ہیں
میرے آنسو بھی میری آنکھوں سے بہنے کے لئے
Ab yeh aalam hai ki har roz taras jaate hain...
Mere aansoo bhi meri aankhon se bahne ke liye..
چرخ امید پہ پھر آج نئے موسم کا
ایک خورشید ہے بیتاب نکلنے کے لئے
Charkhe ummed pe phir aaj naye mausam ka..
Ek Khursheed hai betaab nikalne ke liye.
زندہ رہنا ہے اگر دوست تو شاخ دل پر
چاہئے کوئی پرندہ بھی چہکنے کے لئے
Zinda rahna hai agar dost to shaakhe dil par..
Chahiye koi parinda bhi chahakne ke liye..
ہاں وہ رستہ جو بنا میری تباہی کا سبب
کتنے تیار ہیں اس رہ سے گزرنے کے لئے
Haan wo rasta jo bana meri tabaahi ka sabab.
Kitne taiyaar hain us rah se guzarne ke liye..
کون ہے جو مجھے ہفتوں نہیں سونے دیتا
کون آتا ہے میری نیند سے لڑنے کے لئے
Kaun hai jo mujhe hafton nahi sone deta..
Kaun aata hai meri neend se ladne ke liye..
ہائے افسوس جسے سمجھا تھا اپنی منزل
وہ ملا ہی تھا کبھی مجھ کو بچھڑنے کے لئے
Haaye afsos jise samjha tha apni manzil...
Wo mila hi tha kabhi mujhko bichhadne ke liye.
چاند تاروں کی ضرورت نہیں ہوتی مجھ کو
"دل ہی کافی ہے تیری یاد میں جلنے کے لئے "
Chaand Taaron ki zaroorat nahi hoti mujhko...
Dil hi kaafi hai teri yaad me jalne ke liye.
ہم اسیران محبت کا نہ پوچھو چشتی
ایک اک سانس لیا کرتے ہیں مرنے کے لئے
Ham aseeraane muhabbat ka na poochho Chishti
Ek ek saans liya karte hain marne ke liye..
ایم آر چشتی
M R Chishti
کامران غنی صبا کی غزل
موم بتی کی طرح جلنے پگھلنے کے لئے
ہاں مجھے چھوڑ دیا اس نے بکھرنے کے لئے
کس قدر خوں کی ضرورت ہے ترے مقتل کو
سر بکف سیکڑوں تیار ہیں مرنے کے لئے
وحشتیں دیکھ کے ہر سمت تری دنیا کی
روح بے چین سی ہے جاں سے نکلنے کے لئے
چاہتے سب ہیں زمانے میں تغیر آئے
کوئی تیار نہیں خود کو بدلنے کے لئے
سر کچل دینا ضروری ہی نہیں لازم ہے
سانپ تیار ہے پھر زہر اگلنے کے لئے
جانے کیوں ڈرتے ہیں سب لوگ فنا ہونے سے
سچ تو یہ ہے کہ سبھی جیتے ہیں مرنے کے لئے
صرف میں ہی تو ہوں چہرہ ہے سلامت جس کا
لوگ آمادہ ہیں اس کو بھی بدلنے کے لئے
جل رہا ہوں میں سراپا تو یہ کیسے کہہ دوں
"دل ہی کافی ہے تری یاد میں جلنے کے لئے"
درد ہے، غم ہے، مصیبت ہے جفائیں ہیں صبا
اور کیا چاہئے اس دل کو بہلنے کے لئے
کامران غنی صبا
منصور قاسمی کی غزل
غزل
چل دئیے چھوڑ کے وہ بحر میں مرنے کے لئے
اور طلاطم سے میں لڑتا رہا جینے کے لئے
وقت مشکل ہو تو سایہ بھی دغا دیتا ہے
سارے ہمدرد و مددگار ہیں کہنے کے لئے
ہاں مسافر ہوں میں شب بھر کا چلا جائو گا
نہیں آیا ہوں تیرے شہر میں رہنے کے لئے
اب چراغوں کا جلانے کی ضرورت ہی نہیں
"دل ہی کافی ہے تری یاد میں جلنے کے لئے"
قمریاں شاخ پہ بیٹھی ہوئیں کچھ گاتی ہی رہیں
ہجر کے گیت نہیں تھا کوئی سننے کے لئے
گلشن غیر میں کھلنا تھا کھلا ،قسمت ہے
مری قسمت میں کہاں پھول ہیں کھلنے کے لئے
اٹھ کے منصور سحر گاہی میں چپکے چپکے
رب سے مانگی تھیں دعائیں اسے پانے کے لئے
منصور قاسمی ،سعودی عرب
نور جمشید پوری صاحبہ کی غزل اور انکا ایک قطعہ
قطعہ:
بن کے پھر مشک مہک اٹھے گا یہ جسم مرا
خاک مل جائے مدینے کی جو ملنے کے لئے
بوجھ لے کر یہ گناہوں کا کہاں جاؤں خدا
سبز گنبد کا مجھے سا یہ دے پلنے کے لئے
،،،،،،،،،،
غزل
،،،،
رنگ جیون میں مرے آیا تھا بھرنے کے لئے
رچ رہا سازشیں اب مجھ کو کچلنے کے لئے
،،،،،،،،
آسماں دیکھا تھا کل جس نے نظر سے میری
آج تیار مرے پنکھ کترنے کے لئے
،،،،،،،،
ہر طرف اٹھنے لگے ظلم کے شعلے یارو
تم بھی تیار رہو آگ پہ چلنے کے لئے
،،،،،،،
غیر تو غیر یہاں دیکھ رہے اپنے ہی
خون سے ہاتھ چلے آتے ہیں رنگنے کے لئے
،،،،،،
جس پہ لازم تھی حفاظت وہی مالی اس کا
کتنا بے چین ہوا کلیاں مسلنے کے لئے
،،،،،،،،
میرے ڈگ مگ سے قدم دیکھ کے نہ ہاتھ بڑھا
مجھ کو کافی ہے دعا ماں کی سنبھلنے کے لئے
،،،،،،،
تیرگی ڈس ہی لیا کرتی ہے سورج کو مگر
ہر صبح رہتا ہے تیار نکلنے کے لئے
،،،،،،،،
پیار، اخلاص،محبت میں وفا کی خوشبو
زیست کو چاہیے ہم سب کی، نکھرنے کے لئے
،،،،،،
کفر کی آندھیوں نہ مجھ کو ڈراؤ میں تو
دین کی راہ میں تیار ہوں مرنے کے لئے
،،،،،،،
منتظر شام سے وہ کیسے نہ رہتا میرا
چاند کو چا ہئے تھا نور سنورنے کے لئے
نور جمشید پوری
انعام عازمی کی غزل
اس نے جب چھوڑ دیا مجھکو سسکنے کیلئے
ہے کہانی میں یہی موڑ بچھڑنے کیلئے
تم محبت کی کوئی شمع جلاکر دیکھو
ہم تو پروانے ہیں آ جائینگے جلنے کیلئے
فرقت یار میں جو حال ہوا ہے اپنا
اب تو اک رات ہی کافی ہے بکھرنے کیلئے
ایسے حالات میں دشوار ہے جینا بالکل
حادثہ کوئی تو ہو پھر سے سنبھلنے کیلئے
ہم جہاں کے ہیں وہیں ہم کو چلے جانا ہے
زندگی ہم کو عطا کی گئی مرنے کیلئے
سچ بتاؤں تو مجھے ان سے بہت خطرہ ہے
وہ جو آتے ہیں مرے زخم کول بھرنے کیلئے
لرکھڑاتے ہوئے چلنا ہے یہاں کا دستور
حوصلہ چاہئیے اس شہر میں چلنے کیلئے
میں نے امید کی ہر شمع بجھا دی جاناں
دل ہی کافی ہے تری یاد میں جلنے کیلئے
زندگی نے جو مجھے زخم دیا ہے انعام
موت کافی نہیں اس زخم کو بھرنے کیلئے
انعام عازمی
اصغر شمیم صاحب کی تخلیق
برائے بین الاقوامی آن لائن طرحی مشاعرہ
غزل
دل تو دل ہے مرے یار مچلنے کے لئے
رو برو آئینہ رکھا ہے سنورنے کے لئے
اب چراغوں کی ضرورت ہی نہیں شام ڈھلے
"دل ہی کافی ہے تری یاد میں جلنے کے لئے"
لوگ ہموار زمیں پر تو چلا کرتے ہیں
سنگ ریزوں پہ ہنر چاہئیے چلنے کے لئے
میں خلاؤں میں اڑوں گا تو مری خیر نہیں
تاک میں بیٹھا ہے وہ پر کو کترنے کے لئے
کتنے اسرار ہیں پوشیدہ تہہ خاک شمیم
ہم بھی بے تاب ہیں اس خاک میں ملنے کے لئے
اصغر شمیم
کولکتہ، مغربی بنگال
نصر بلخی صاحب کی غزل
غزل
نصر بلخی، پٹنہ
رابطہ:9905055746
یہ نہیں کہتا ہوں آ جاﺅ ٹھہرنے کے لئے
تم کسی روز تو مل جاﺅ بچھڑنے کے لئے
ترے جلووں کی کشاکش تری آنکھوں کا خمار
کوئی موقع نہ ملا دل کو سنبھلنے کے لئے
ہیں شہیدانِ محبت انہیں مردہ نہ کہو
شرط مرنے کی لگا دی گئی جینے کے لئے
کوچئہ عشق میں ہر سمت مصیبت کا ہجوم
حوصلہ چاہئے اس رہ سے گزرنے کے لئے
نہ ستاروں کی تمنا ہے نہ سورج کی طلب
”دل ہی کافی ہے تری یاد میں جلنے کے لئے“
حسرت و مکرو دغا، ظلم و ستم رکھا ہے
یہی اوصاف بچے دہر میں رہنے کے لئے
کتنی پر کیف و دل آویز ہے مقتل کی فضا
تو ہے شمشیر بکف، سر مرا کٹنے کے لئے
شب فرقت میں تری یاد کا مدھم سورج
کتنا بے تاب ہے تو دیکھ نکلنے کے لئے
شدت حسن کے پرتو کا اثر ہے اب تک
’طور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لئے‘
منتظر جس کا نصر تھا وہ گھڑی آئی ہے
پا بہ زنجیر ہوا خوں میں سورنے کے لئے
اعجاز انور کی تخلیق
Meri takmil hui aag men jalne ke liye
Mujhko kahta hai koi rah badalne ke liye
Maswara ye hai karo jung to ye yad rahe
Koi mauqa hi nahi dena sambhalne ke liye
Sab pe rahta hai har eq waqt zararuat hawi
Ghar se har waqt ye kahta hai nikalne ke liye
Sadgi men hi use aaj bula lete hain
Paihan dhang ka nahi koi badalne ke liye
Merj bahon men sama jao milegi thandak
Bewajah niklo na tum dhoop men jalne ke liye
Khune dil kaise karun apne jiigar ko anwar
Dil hi kafi hai teri yad men jalne ke liye
Ejaz anwar
رضا مفتی کی غزل
Tere khawabon ke haseen saanche me dhalne ke liye...
Laut aaya hun tujhe baanhon me bharne ke liye..
Dekhna hai ke masihayee ko kon aata hai,
Dost to chhor gaye dasht me marne ke liye...
Aa bhi jaao ke chhalak jaye na paimanae sabr,
Ashk betaab hain in aankhon se bahne ke liye...
Jaano dil hosh ganwaker jise paya maine,
Kitna bechain hai wo mujhse bichhadne ke liye...
Aarzoon ka gala ghutta hai har roz yahaan,
Zindagi kya hai ye ek dard hai sahne ke liye...
Jo meri maut ka saman liye phirta hai,
Main hun betaab use banhon me bharne ke liye...
Meri raaton ko chiraghon ki zarurat kya hai,
Dil hi kafi hai teri yaad me jalne ke liye..
Dil larazta hai mera zikre wafa pe Mufti,
Ashk aankhon me hain betaab chhalakne ke liye...
#Raza Mufti
احمد عثمانی کی غزل
زھر زباں کافی ھے نفرت کے دئے جلنے کے لئے
نئے فتنے جگانے کے لئے نئے جال بننے کے لئے
شیطان نے جنگ ھاری ھے موت ابھی باقی ھے
مشورے ھوںگے انکے نئے خواب دکھنے کے لئے
وہ کیا جانیں عشق کیا بلاھے وفا کیا ھے
ھم تو ھردم تیار بیٹھے ھیں وطن پر مرنے کے لئے
ٹوٹے گی انا ان کی مٹ جائیگا بھرم انکا
جو رکھتے ھیں مزاج طفلانہ ھر ضد پہ مچلنے کے لئے
رواداری اور ھنر چاھئے ھر حکم یزدانی کے لئے
کہتے ھیں وہ کافر اور اس احمد عاشق ھند سے
گوشت خوری چھوڑنی ھوگی وطن میں رھنے کے لئے
احمد عثمانی
یوسف جمیل کی غزل
غزل
GHAZAL
سر پهری آندھی کا رخ ابکے بدلنے کے لئے
کچھ دیے کب سے پریشان ہیں جلنے کے لئے
سوچ کر تجھ کو مری جان بہلنے کے لئے
دل ہی کافی ہے تری یاد میں جلنے کے لئے
اک چھوٹی سی خطا اسکی سزا اتنی بڑی
اک موقع تو دیا جائے سمبهلنے کے لئے
کیا بگاڑے گا ہمارا یہ سلگتا سورج
ہم غریبوں کا بدن ہے ہی پگهلنے کے لئے
اے خدا پہول سے بچچو کو تسلی دے دے
خالی برتن میں ہے اک سنگ ابلنے کے لئے
ہم بھی آ ہی گئے بربادی کی زد میں یوسف
اب تو باقی نہیں کچھ ہاتھ بھی ملنے کے لئے
یوسف جمیل یوسف
اورنگ آباد
SARPHIRI AANDHI KA RUKH ABKE BADALNE K LIYE
KUCH DIYE KABSE PARESHAN HAIN JALNE K LYE
SOCHKAR TUJHKO MERI JAN BAHALNE K LYE
DIL HI KAFI HE TERI YAD MR JALNE K LIYE
EK CHOTI SI KHATA USKI SAZA ITNI BADI
EK MAUQA TO DIYA JAE SAMBHALNE K LIYE
KYA BIGADEGA HUMARA YE SULAGTA SURAJ
HUM GHARIBO KA BADAN HAI HI PIGHALNE K LIYE
AE KHUDA PHOOL SE BACHCHO KO TASALLI DE DE
KHALI BARTAN ME HAI EK SANG UBALNE K LIYE
HUM BHI AA HI GAE BARBADI KI ZAD ME YUSUF
AB TO BAQI NAHI KUCH HATH BHI MALNE K LIYE
YUSUF JAMIL YUSUF AURANGABADI
AURANGABAD
BIHAR
9199997579
اسقبالیہ کلمات:کامران غنی صبا
استقبالیہ کلمات
معزز حاضرین کرام!
’بزم غزل‘ نے بہت جلد ہی بین الاقوامی سطح پر اپنی ایک شناخت قائم کر لی ہے۔ ایم آر چشتی کے خوابوں کا یہ گلشن اپنی پوری رعنائیوں کے ساتھ دنیائے علم و ادب کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔احمد اشفاق اور ڈاکٹر منصور خوشتر کی کاوشوں نے اسے بلندیوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔پروفیسر عبد المنان طرزی، ڈاکٹر اسرائیل رضا، ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی، احمد عثمانی، ڈاکٹر عبدالحنان سبحانی، ڈاکٹر زرنگار یاسمین،حبیب مرشد خان،مرغوب اثر فاطمی، نیاز نذر فاطمی، جمیل اختر شفیق، منصور قاسمی، نور جمشید پوری، اعجاز انور، اصغر شمیم، مصداق اعظمی، چونچ گیاوی،ایم رضا مفتی، انعام عازمی، جمیل ارشد خان، جلیل ارشن خان، فاطمہ عثمانی سمیت گروپ کے سبھی معزز اراکین گروپ کو مقبول بنانے میں اپنا بھر پور تعاون دیا ہے۔بات مشاعروں کی ہو یا اعزازی نشستوں کی، بزم غزل کے سبھی پروگراموں کی کامیابی میں آپ سبھی کی حصہ داری رہی ہے۔
حاضرین کرام!
بزم غزل کی تشکیل کا مقصد صرف شعرو شاعری کی محفلوں کا انعقاد نہیں ہے۔ انفارمیشن ٹکنالوجی کے اس عہد میں کہ جب تشنگان علم و ادب کتابوں سے زیادہ برقی مواصلات کی طرف راغب ہو رہے ہیں، ہماری یہ کوشش ہے کہ ہم ترسیل کے جدید مواصلات کو اتنا مضبوط اور معیاری بنا دیں کہ نئی نسل ”اس نئی دنیا“ میں گھٹن سی محسوس نہ کرے۔ ہمیں یہ خوشی ہے کہ ہم اپنی اس کوشش میں بہت حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔ ہماری کامیابی کا یہ ثبوت ہی تو ہے کہ ”بزم غزل“ کی طرز پرواٹس ایپ پر ہی کئی ایک گروپ تشکیل دئیے جا چکے ہیں۔ واٹس ایپ مشاعروں کی جو روایت بزم غزل نے شروع کی تھی اسے بھی دوام حاصل ہو رہا ہے۔
’بزم غزل‘ کی تشکیل کا ایک اور اہم مقصد دنیا کے مختلف خطوں میں آباد شعراءشاعرات کو ایک جگہ جمع کرنا تھا۔الحمد للہ ہم اس کوشش میں بھی کامیاب رہے ہیں۔ ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ بیرون ممالک میں مقیم شعراءشاعرات کی وطن سے دوری کے احساس کو بزم غزل نے بہت حد تک کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
’بزم غزل‘ کی تشکیل کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ نئی نسل کے شاعروں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور انہیں اپنے فن کو بروئے کار لانے کا موقع فراہم کیا جائے۔ نیز ایسے شاعر جنہوں نے کسی وجہ سے ”خاموشی کی ردا“ اوڑھ لی ہے انہیں پھر سے منظر عام پر لایا جائے۔ یقینا ہم اپنی اس کوشش میں بھی صد فی صد کامیاب رہے ہیں۔عامر نظر، انعام عازمی، ایم رضا مفتی، جہانگیر نایاب، اسامہ عقیل، یوسف جمیل جیسے نوجوان شاعروں نے اپنے تخلیقات سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اردو شاعری کا مستقبل انتہائی روشن اور تابناک ہے۔ ہمیں اس بات کی بھی خوشی ہے کہ پروفیسر اسرائیل رضا، ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی، ڈاکٹر زرنگار یاسمین اور احمد عثمانی جیسے سینئر شاعروں نے بھی جنہوں نے کسی وجہ سے شاعری تقریباً ترک کر دی تھی ہماری پہل پرپھر سے شاعری کی طرف راغب ہوئے ہیں۔ خدا کرے یہ سلسلہ دراز رہے۔
حاضرین کرام! ہمارا سفر ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ وقت کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے تحت ہمیں بھی نت نئے تجربات کرنے ہیں۔آپ سب کا اسی طرح تعاون حاصل رہا تو بزم غزل کو اور بھی عروج حاصل ہوگا۔ انہیں چند کلمات کے ساتھ ہم آج کے اس خوب صور ت مشاعرہ میں آپ سب کا استقبال کرتے ہیں
ستارے توڑ کر رک جاﺅں یہ ممکن نہیں مجھ سے
مرے پائے طلب کو آسماں کے پار جانا ہے
کامران غنی صبا
شاعروں کی لسٹ
آج کے مشاعرہ میں شامل شعراء اور شاعرات
Aaj ke mushayere me shaamil shoara aur shaayerat
انعام عاذمی
Inaam Azmi
رضا مفتی
Raza Mufti
جمال آرزو( ایم آر چشتی )
Jamal Arzoo
کیف سمستی پوری
Kaif Samastipuri
یوسف جمیل
Yousuf Jameel
اعجاز انور
Ejaz Anwar
بشر رحیمی
Bashar Raheemi
ایم آر چشتی
M R Chishti
نصر بلخی
Nasar Balkhi
احمد عثمانی
Ahmad Usmani
کامران غنی صبا
Kamran Ghani Saba
نیاز نزر فاطمی
Neyaz Nazar Fatmi
منصور قاسمی
Mansoor Qasmi
مرغوب اثر فاطمی
Marghoob Asar Fatmi
منصور خوشتر
Mansoor Khushtar
اصغر شمیم
Asghar Shamim
نور جمشید پوری
Noor Jamshedpuri
منگل، 24 نومبر، 2015
اعلان
معزز حاضرین ...
انتہائی خوشی کے ساتھ اطلاع دی جا رہی ہے کہ بزم غزل کے زیر اہتمام ۲۸ نومبر ۲۰۱۵ بروز سنیچر ہندوستانی وقت کے مطابق رات نو بجے ایک بین الاقوامی آن لائن طرحی مشاعرہ کا انعقاد کیا جا رہا ہے
مصرعہ طرح: دل ہی کافی ہے تری یاد میں جلنے کے لئے
قافیہ: جلنے ... ڈرنے ... بسنے ... کہنے وغیرہ
ردیف: کے لئے
آپ سے التماس ہے کہ اپنی طرحی غزل ۲۷ تاریخ تک ایڈمن کو بھیج دیں
ملتمسین ....
احمد اشفاق
ایم آر چشتی
منصور خوشتر
کامران غنی صبا
Muhtaram Haazreen
Intehaai khushi ke saath yeh khabar di jaa rahi hai ki 28 November 2015 (Saturday ) 9 pm indian time.. Ek international Online Tarhi mushayera ka ineqaad kiya ja raha hai. Jiska misra tarah hai
Dil hi kaafi hai teri yaad me jalne ke liye..
Qaafiya. Pighalne.. Darne.. Basne.. Kahne aur radeef... Ke liye
Aapse guzarish hai ki 27 November tak apni Ghazal admins ko bhej den.
Admins
Ahmad Ashfaq
M. R. Chishti
Dr. Mansoor Khushtar
Kamran Ghani Saba