بدھ، 23 اگست، 2017

غزل-حسن امام قاسمی

**********غزل**********

میرے  اپنے  سب  کنارے  ہوگئے
ہم سفر جب تیز  دھارے ہو گئے

مفلسی میں ہائے رے یہ بے بسی
دور ہم سے دوست سارے ہوگئے

عیب جوئی تم نے کی کچھ اس طرح
عیب  میرے سب تمہارے ہوگئے

تیرگی کی حکمرانی کیوں نہ ہو
ایسے  ویسے  چاند  تارے ہوگئے

آئے  ان  کے جب  قدوم   میمنت
خوبصورت  سب  نظارے  ہوگئے

شاعری کی ان سے نسبت جوڑکر
جو بھی  لکھا  نظم  پارے ہوگئے

موسم گل نے جو چھیڑا اے حسن
پھر سے تازہ  زخم  سارے ہوگئے

حسن امام قاسمی

غزل : رضا مفتی

غزل

بستی میں جب کوئی بے گھر ہوتا تھا
سونا سونا سا ہر منظر ہوتا تھا

تم نے مجھ کو موم بناکر چھورا ہے
کل تک میرا دل بھی پتھر ہوتا تھا

اب وہ سارے ہی سنسد میں ہوتے ہیں
پہلے قاتل جیل کے اندر ہوتا تھا

جس گھر کے بیٹے پردیس میں ہوتے تھے
گاؤں میں وہ سب سے بہتر ہوتا تھا

ان اجری گلیوں میں ہی کچھ سال گئے
اپنا  ملنا جلنا اکثر ہوتا تھا

آنگن میں جب کھاٹ پہ ہم سو جاتے تھے
چاند ہمارے گھر کے اوپر ہوتا تھا

اک خوشبو کمرے میں پھیلی ہوتی تھی
میری میز پہ اس کا  لیٹر ہوتا تھا

وقت نے تنہا چھور دیا ہے آج  رضا
میرے ساتھ بھی کل تک لشکر ہوتا تھا

رضا مفتی

غزل : جمیل ارشد خان

غزل
جمیل ارشد

شمشیر آبدار ہو؛ جذبوں پہ زنگ ہو
کیا خاک ایسے حال میں باطل سے جنگ ہو

محسوس ہو گھٹن تو تعجّب کی بات کیا؟
پیراہنِ حیات ہی جب اتنا تنگ ہو

ذوقِ سفر کو اور ملے جس سے تقویت
اک ایسا  ہمسفر بھی کوئ میرے سنگ ہو

رنگینئ زمانہ سے یوں بے غرض ہے دل
جیسے کوئ فقیر ہو جیسے ملنگ ہو

ہو جس فصیلِ شہر پہ تکیہ کئے ہوئے
ایسا نہ ہو کہ اس کے ہی نیچے سرنگ ہو

ارشد مریضِ ہجر کا بیکار ہے علاج
وہ کیا جیے گا جس کے نہ دل میں امنگ ہو

جمیل ارشد خان کھام گانوی ناگپور
                       919503600264
🌺🌹🌺🌹🌺🌹🌺🌹🌺🌹🌺

غزل : جہانگیر نایاب

------------------------(غزل)-------------------------

میں  غرق  ہو   گیا   ہوں  خود  اپنے وجود میں
اورخودکو ڈھونڈتاہوں ہوں خوداپنے وجود میں

عادت  سی پر گئی  ہے  جو  تنقیص  کی  مجھے
کیڑے    نکالتا   ہوں   خود   اپنے    وجود   میں

کچھ اس طرح سے ڈھائے  ہیں  حالات نے  ستم
گم  ہو  کے  رہ  گیا  ہوں  خود  اپنے وجود  میں

جیسے  مِرے  ہی  جسم  کا  حصہ  ہو تم  کوئی
میں تم  کو  ڈھونڈتا ہوں خود  اپنے وجود  میں

ہر  نقص   دیکھتا   ہوں   خود    اپنے  وجود  کا
میں  ایک   آئینہ  ہوں  خود   اپنے   وجود  میں

قائم  ہے   مجھ   میں  میرے تخیّل کی سلطنت
بے تاج   بادشہ   ہوں   خود   اپنے   وجود   میں

نایاب     انقلاب    زمانہ     کی     ہے        دلیل
بدلاؤ   دیکھتا    ہوں   خود    اپنے  وجود  میں

--------------------------------------*جہانگیرنایاب

غزل: شہنواز اختر

غزل
کسی کے وعدہ فردا پہ اعتبار نہ کر
تو رسم مہر و محبت کو شرمسار نہ کر

اگر چہ لوگ وفاؤں کی بات کرتے ہیں
مرا ضمیر یہ کہتا ہے اعتبار نہ کر

تغیرات زمانہ سے خوب واقف ہوں
سبات دہر کا تو ذکر میرے یار نہ کر

جو اہل ظرف ہیں اشکوں کو اپنے پیتے ہیں
جگر کے درد سے آنکھوں کو اشکبار نہ کر

یہ دور نو  تقاضا ہے بر محل اختر
قدیم طرز غزل میں اب اختیار نہ کر

شاہنواز اختر
پا ٹلی پترا ، پٹنہ

غزل : نصر بلخی

غزل
نصر بلخی

سروں پہ باندھے کفن تیرے جانثار آئے
وہ ایک بار نہیں آئے بار بار آئے

منافقت کو بنایا ہے اپنا طرز عمل
مری طرف سے کسی دل پہ کیوں غبار آئے

ہم اہلِ شوق ہیں، صحرا نشیں ہیں دشت نورد
ستارے فرشِ گزر گرچہ بے شمار آئے

کہ زندگی کی صداقت کو جانتا ہے وہی
غم حسین ہو اور کیوں نہ اشک بار آئے

دہائی دیتے ہیں اپنی وہ جانثاری کی
کہ قتل گاہ وفا سے وہ شرمسار آئے

رہِ وفا میں عجب اضطراب جاں تھا نصر
قریب جتنے ہوئے اور بے قرار آئے

غزل: امام قاسم ساقی

غزل

طائرِ فکر و نظر لے کر بہار آنے کو ہے 
شاعرِ اردو کے فن پر اب نکھار آنے کو ہے

شب کی چادر پر سجانے کے لئے اک کہکشاں 
جنگلوں سے  جگنوؤں کی اک قطار آنے کو ہے

ٹہنیاں یوں  لے رہی ہیں جھوم کر  انگڑائیاں 
جیسے گلشن میں نویدِ نو  بہار آنے کو ہے

اے زمیں !  ہے  سر خمیدہ کیوں یہ تیرا آسماں 
کیا تری بیتابیوں  کو اب قرار آنے کو ہے ؟

اوڑھ کر علم و ہنر کی کہکشاں اے ساقیا !
انجمن سے جاکے کہدے  خاکسار آنے کو ہے

امام قاسم ساقی

نعت پاک : واحد نظیر

واحد نظیر

جو دشمنِ رسول تھے وہ خوار ہو گئے
شاہانِ وقت ، ان کے وفا دار ہو گئے

حالات خود حریفِ شبِ تار ہو گئے
ظلمت کے جتنے حربے تھے بے کار ہو گئے

بخشا مرے رسول نے وہ طرزِ زندگی
صحرا کے گاؤں شہر کا معیار ہو گئے

فیضانِ مصطفیٰ کی یہ زندہ مثال ہے
موضوعِ نعت گنبد و مینار ہو گئے

خیرات شہرِ علم کی چوکھٹ سے مل گئی
الفاظ اپنے لائقِ اظہار ہو گئے

تشریحِ ما رَمیتَ سے یہ بھی ہنر کھلا
حمدِ خدا میں نعت کے اشعار ہو گئے

منگتوں کو یوں نظیر شہنشاہ نے دیا
جو تھے فقیر وہ بھی دُرَر بار ہو گئے

....... بزم غزل.......