غزل
(اسرائیل رضا)
حسرت رہی کہ دل میں سمایا نہیں ہنوز
نظروں سے جام کوئ پلایا نہیں ہنوز
تقدیس عشق پر نہ کوئ آنچ آسکے
یہ سوچ کر قدم ہی بڑهایا نہیں ہنوز
تڑپے ہےجسم ٹیس بهی اٹهتی جگر میں ہے
سوز نہان عشق بجهایا نہیں ہنوز
یادوں کےسب نقوش گہربن کے رہ گئے
پاس حیا سے راز بتایا نہیں ہنوز
صدقہ اتارئےسدا اس پاک نفس کا
دل رونق جہاں سےلگایا نہیں ہنوز
وہ اشک بےبسی کےبهی آنکهوں میں دیکهئے
دامن تو تهاما دین نبهایا نہیں ہنوز
ہوتاشباب میں ہے شرانگیزئ ابلیس
مومن وہ کیا جو خود کو بچایا نہیں ہنوز
اظہارعشق لفظوں میں کیونکر کرےرضا
جب دل کے آستاں میں بٹهایا نہیں ہنوز
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں