ہفتہ، 20 فروری، 2016

غزل -یوسف جمیل

روشنی کے گهر م لالے پڑ گئے
جب چراغ آندھی کے  پالے پڈ گئے
کیا  پتہ کیا بزم میں اس نے کہا
سوچ میں سب سننے والے پڑ گئے
کهانہ لے کے آئی ماں تو یوں لگا
خود بخود منہ میں نوالے پڑ گئے
جن میں بکتی تهیں دوائیں درد کی
ان دکانوں میں بھی تالے پڈ گئے
جگنوؤں سے گهر تھا روشن اس قدر
حیرتوں میں خود  اجالے پڈ گئے
شاخ پر تهے مختلف رنگوں کے پهوک
وقت بدلا تو وہ کالے پڈ گئے
انکے چہرے پر بهی آییں جهریاں
میری آنکھوں میں بھی جالے پڈ گئے
کس قدر نازک تھے یوسف اسکے پاوں
دو قدم چلنے میں چھالے پڈ گئے
:

یوسف جمیل یوسف اورنگ آبادی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں