الحمد للٰہ رب العالمین
والصلوة والسلام على رسوله الكريم
وبعد
معزز سامعین و ناظرین
اراکین و منتظمین
بزم غزل کا یہ دسواں آن لائن اور دوسرا آڈیو مشاعرہ بھی بہت کامیاب رہا. جس کی صدارت مجھ جیسے کم علم کے سپرد کی گئی
ہرچند کہ یہ کام میرے لئے مشکل اور دشوار تھا لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ گروپ کے معزز اراکین اور اہل علم کی معیت میں یہ ذمہ داری بھی میرے لئے اعزاز اور فخر کی بات تھی مزید یہ کہ کہنہ مشق اور اساتذہ شعرا کی موجودگی میں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا
روایتی تمہید ' سیاق و سباق' منظر پس منظر' یا گروپ کے تعارف اہداف و مقاصد سے صرف نظر کچھ بنیادی باتیں عرض کرنی مناسب ہوں گی
انسان دنیائے موجودات کی افضل ترین مخلوق ہے ' تخلیقی شعور اور قوت بیان فطرتا انسان کو ودیعت کی گئی ہے'وہ جو کچھ دیکھتا سنتا اور محسوس کرتا ہے اس سے نتائج اخذ کر کے لفظوں کے توسط سے دوسروں تک پہنچا سکتا ہے '
زبان و بیان کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی کہ انسانی تاریخ قرآن میں بھی اللٰہ تعالیٰ نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے وعلم آدم الاسماء کلہا یعنی اللٰہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو ہر چیز کے نام سکھائے
خلق الانسان علمہ البیان اللٰہ نے انسان کو پیدا کیا اور اسے صرف بولنا ہی نہیں بلکہ وضاحت کے ساتھ مافی الضمیر کو ادا کرنا سکھایا
اردو زبان کی تاریخ دیگر زبانوں کے تناظر میں بہت زیادہ قدیم نہیں ہے بلکہ انسانی تاریخ کے تقابل میں یہ نو زائیدہ ہے اور یہی چیز اس کی خوبصورتی اور مقبولیت کے لئے کافی ہے کیونکہ ہر بعد میں آنے والی چیز پہلے سے بہتر ہوتی ہے" ہر کہ آمد عمارت نو ساخت"
اس بات سے کسی کو اختلاف نہیں ہونا چاہئے کہ اردو زبان فی زماننا دنیا کی بڑی زبانوں میں سے ایک ہے ' دنیا کے بیشتر خطوں میں اس کے بولنے اور سمجھنے والے موجود ہیں موجودہ دور میں شوشل نیٹورک اور اور جدید تکنیکی ذرائع ابلاغ نے اس کی توسیع میں جو کردار ادا کیا ہے اور کر رہے ہیں وہ کسی سے مخفی نہیں'
ہمارا یہ آن لائن مشاعرہ بھی بجا طور پر اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا ہم اپنے ذمہ داران اور اراکین کی فعالیت سے پر امید ہیں کہ مستقبل قریب میں اردو زبان کی تاریخ میں "بزم غزل" کا ایک مستقل باب مرتب ہو گا
اللٰہ سے دعا ہے کہ بزم غزل کو عمر طویل اور منتمین بزم کے ارادوں کو مزید تقویت بخشے آمین
والسلام
نور جمشید پوری
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں