.....................غزل...........................
فتنے ہزار ہم کو سرِ رہگزر ملے
پھولوں کی تھی تلاش مگر سنگِ در ملے
امن و اماں کے سائے میں بیدادگر ملے
خود اپنی خواہشات میں الجھے بشر ملے
مٹ جائیں سارے شکوے گلے شاید اب کی بار
جب بھی ملے ، ہم ان سے یہی سوچ کر ملے
مجرم ہوں ایک میں ہی یہ انصاف تو نہیں
چھوٹی سی اک خطا کی سزا عمر بھر ملے
اپنے جہاں میں مست ہیں اس دور میں سبھی
فرصت کسے یہاں ، جو کوئی ٹوٹ کر ملے
کوشش تو کی سبھی نے بہت اپنے طور پر
ساحل ملا کسی کو ، کسی کو بھنور ملے
پایا نہیں کسی کو بھی فتنوں سے ہم نے پاک
ہر شعبئہ حیات میں زیر و زبر ملے
نایاب میرا کام ہے ، کرتا رہوں تلاش
ممکن نہیں کہ سب کو متاعِ ہنر ملے
جہانگیرنایاب
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں