اتوار، 21 فروری، 2016

غزل- ایمان گونڈوی

ग़ज़ल...

अच्छा हुआ गया कि मेरी जाँ पे बार था।
एक बेलगाम दिल जो बहुत बेक़रार था।

अब भी तो हूँ खुशी से मुलव्विस फ़रेब में,
किसने कहा कि मुझको तेरा ऐतबार था।

अब ख़ुद ही मुन्तज़र हूँ कहीं खो गया हूँ मैं,
वो दिन हवा हुए कि तेरा इन्तज़ार था।

मायूसियों की मौजें बहा ले गयीं उसे,
तुझसे जो एक बूँद का उम्मीदवार था।

इलज़ाम मढ़ गया वो मुक़द्दर पे आज फिर,
अपनी तबाहियों का जो ख़ुद ज़िम्मेदार था।

मुख़तसरन अहले-होश! सुनो क़िस्सा-ए-जुनूँ,
ये वो मक़ाम है कि जहाँ पहले दार था।

'ईमान' चल रहे हैं ज़माने के साथ अब,
ख़ातिर में हम ले आए जो कुछ नागवार था।

ایمان گونڈوی

ہفتہ، 20 فروری، 2016

صدارتی کلمات- نور جمشید پوری صاحبہ

الحمد للٰہ رب العالمین
والصلوة والسلام على رسوله الكريم
وبعد
معزز سامعین و ناظرین
اراکین و منتظمین
بزم غزل کا یہ دسواں آن لائن اور دوسرا آڈیو مشاعرہ بھی بہت کامیاب رہا. جس کی صدارت مجھ جیسے کم علم کے سپرد کی گئی
ہرچند کہ یہ کام میرے لئے مشکل اور دشوار تھا لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ گروپ کے معزز اراکین اور اہل علم کی معیت میں یہ ذمہ داری بھی میرے لئے اعزاز اور فخر کی بات تھی مزید یہ کہ کہنہ مشق اور اساتذہ شعرا کی موجودگی میں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا
       روایتی تمہید ' سیاق و سباق' منظر پس منظر' یا گروپ کے تعارف اہداف و مقاصد سے صرف نظر  کچھ بنیادی باتیں عرض کرنی مناسب ہوں گی

           انسان دنیائے موجودات کی افضل ترین مخلوق ہے ' تخلیقی شعور اور قوت بیان فطرتا انسان کو ودیعت کی گئی ہے'وہ جو کچھ دیکھتا سنتا اور محسوس کرتا ہے اس سے نتائج اخذ کر کے لفظوں کے توسط سے دوسروں تک پہنچا سکتا ہے '
     زبان و بیان کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی کہ انسانی تاریخ قرآن میں بھی اللٰہ تعالیٰ نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے وعلم آدم الاسماء کلہا یعنی اللٰہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو ہر چیز کے نام سکھائے
خلق الانسان علمہ البیان   اللٰہ نے انسان کو پیدا کیا اور اسے صرف بولنا ہی نہیں بلکہ وضاحت کے ساتھ مافی الضمیر کو ادا کرنا سکھایا
         اردو زبان کی تاریخ دیگر زبانوں کے تناظر میں بہت زیادہ قدیم نہیں ہے بلکہ انسانی تاریخ کے تقابل میں یہ نو زائیدہ ہے اور یہی چیز اس کی خوبصورتی اور مقبولیت کے لئے کافی ہے کیونکہ ہر بعد میں آنے والی چیز پہلے سے بہتر ہوتی ہے" ہر کہ آمد عمارت نو ساخت" 
    اس بات سے کسی کو اختلاف نہیں ہونا چاہئے کہ اردو زبان فی زماننا دنیا کی بڑی زبانوں میں سے ایک ہے ' دنیا کے بیشتر خطوں میں اس کے بولنے اور سمجھنے والے موجود ہیں موجودہ دور میں شوشل نیٹورک اور اور جدید تکنیکی ذرائع ابلاغ نے اس کی توسیع میں جو کردار ادا کیا ہے اور کر رہے ہیں وہ کسی سے مخفی نہیں'
ہمارا یہ آن لائن مشاعرہ بھی بجا طور پر اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا ہم اپنے ذمہ داران اور اراکین کی فعالیت سے پر امید ہیں کہ مستقبل قریب میں اردو زبان کی تاریخ میں "بزم غزل"  کا ایک مستقل باب مرتب ہو گا
اللٰہ سے دعا ہے کہ بزم غزل کو عمر طویل اور منتمین بزم کے ارادوں کو مزید تقویت بخشے آمین
والسلام
نور جمشید پوری

صدارتی کلمات- نور جمشید پوری صاحبہ

الحمد للٰہ رب العالمین
والصلوة والسلام على رسوله الكريم
وبعد
معزز سامعین و ناظرین
اراکین و منتظمین
بزم غزل کا یہ دسواں آن لائن اور دوسرا آڈیو مشاعرہ بھی بہت کامیاب رہا. جس کی صدارت مجھ جیسے کم علم کے سپرد کی گئی
ہرچند کہ یہ کام میرے لئے مشکل اور دشوار تھا لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ گروپ کے معزز اراکین اور اہل علم کی معیت میں یہ ذمہ داری بھی میرے لئے اعزاز اور فخر کی بات تھی مزید یہ کہ کہنہ مشق اور اساتذہ شعرا کی موجودگی میں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا
       روایتی تمہید ' سیاق و سباق' منظر پس منظر' یا گروپ کے تعارف اہداف و مقاصد سے صرف نظر  کچھ بنیادی باتیں عرض کرنی مناسب ہوں گی

           انسان دنیائے موجودات کی افضل ترین مخلوق ہے ' تخلیقی شعور اور قوت بیان فطرتا انسان کو ودیعت کی گئی ہے'وہ جو کچھ دیکھتا سنتا اور محسوس کرتا ہے اس سے نتائج اخذ کر کے لفظوں کے توسط سے دوسروں تک پہنچا سکتا ہے '
     زبان و بیان کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی کہ انسانی تاریخ قرآن میں بھی اللٰہ تعالیٰ نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے وعلم آدم الاسماء کلہا یعنی اللٰہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو ہر چیز کے نام سکھائے
خلق الانسان علمہ البیان   اللٰہ نے انسان کو پیدا کیا اور اسے صرف بولنا ہی نہیں بلکہ وضاحت کے ساتھ مافی الضمیر کو ادا کرنا سکھایا
         اردو زبان کی تاریخ دیگر زبانوں کے تناظر میں بہت زیادہ قدیم نہیں ہے بلکہ انسانی تاریخ کے تقابل میں یہ نو زائیدہ ہے اور یہی چیز اس کی خوبصورتی اور مقبولیت کے لئے کافی ہے کیونکہ ہر بعد میں آنے والی چیز پہلے سے بہتر ہوتی ہے" ہر کہ آمد عمارت نو ساخت" 
    اس بات سے کسی کو اختلاف نہیں ہونا چاہئے کہ اردو زبان فی زماننا دنیا کی بڑی زبانوں میں سے ایک ہے ' دنیا کے بیشتر خطوں میں اس کے بولنے اور سمجھنے والے موجود ہیں موجودہ دور میں شوشل نیٹورک اور اور جدید تکنیکی ذرائع ابلاغ نے اس کی توسیع میں جو کردار ادا کیا ہے اور کر رہے ہیں وہ کسی سے مخفی نہیں'
ہمارا یہ آن لائن مشاعرہ بھی بجا طور پر اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا ہم اپنے ذمہ داران اور اراکین کی فعالیت سے پر امید ہیں کہ مستقبل قریب میں اردو زبان کی تاریخ میں "بزم غزل"  کا ایک مستقل باب مرتب ہو گا
اللٰہ سے دعا ہے کہ بزم غزل کو عمر طویل اور منتمین بزم کے ارادوں کو مزید تقویت بخشے آمین
والسلام
نور جمشید پوری

غزل- نور جمشید پوری صاحبہ

غزل
،،،،،
پیار کا پھول حسیں دل کھلا رکھا ہے
اس کی خوشبو سے تخیل کو سجا رکھا ہے
،،،،،،،
جب ہوئی آرزو ملنے کی تو مل لیتے ہیں
بند پلکوں میں جنہیں ہم نے چھپا رکھا ہے
،،،،،،،
چل رہے تھے جو سبھی چال چلے ھم ،تو کیوں
آسماں سر پہ زمانے نے اٹھا رکھا ہے
،،،،،،،
ہوکے بے خوف زمانے میں جیا کرتے ہیں
اپنے کردار کو جس نے بھی بچا رکھا ہے
،،،،،،،
کیوں ابھر آئےہیں یہ پاؤں میں چھالے اتنے
ہر قدم پھونک کے ہم نے تو سدا رکھا ہے
،،،،،،،،
آؤ لگ جائیں گلے بھول کے شکوے سارے
بے سبب آپسی تکرار میں کیا رکھا ہے
،،،،،،،،،
ہے یہ ہمدرد  مرا مجھ کو نہ تنہا چھوڑے
اس لئے درد کو  سینے میں دبا رکھا ہے
،،،،،،،
آج نہ پھول بچھا راہ میں ان کی کوئی
اے صبا ،ہم نے تو پلکوں کو بچھا رکھا ہے
،،،،،
کرب ہے ،درد ہے،اور چشم سدا نم جس میں
اس مرض کا ہی یہاں  نام وفا رکھا ہے
،،،،،،،
کچھ تو آنکھوں کو نطر آیا ہی ہوگا تجھ میں
سر ترے آگے نہیں یوں ہی جھکا رکھا ہے
،،،،،،
اے دیا نور ترے دم سے ہے قائم دائم
اس کی خاطر ہی تو نے خود کو جلا رکھا ہے
نور جمشید پوری

غزل- اسرائیل رضا صاحب

غزل
(اسرائیل رضا)
حسرت رہی کہ دل میں سمایا نہیں ہنوز
نظروں سے جام کوئ پلایا نہیں ہنوز

تقدیس عشق پر نہ کوئ آنچ آسکے
یہ سوچ کر قدم ہی بڑهایا نہیں ہنوز

تڑپے ہےجسم ٹیس بهی اٹهتی جگر میں ہے
سوز نہان عشق بجهایا نہیں ہنوز

یادوں کےسب نقوش گہربن کے رہ گئے
پاس حیا سے راز  بتایا نہیں  ہنوز

صدقہ اتارئےسدا اس پاک نفس کا
دل رونق جہاں سےلگایا نہیں ہنوز

وہ اشک بےبسی کےبهی آنکهوں میں دیکهئے
دامن تو تهاما دین نبهایا نہیں ہنوز

ہوتاشباب میں ہے شرانگیزئ ابلیس
مومن وہ کیا جو خود کو بچایا نہیں ہنوز

اظہارعشق لفظوں میں کیونکر کرےرضا
جب دل کے آستاں میں بٹهایا نہیں ہنوز

غزل- ایم آر چشتی

Ghazal

Tujhe ehsaas hi kya tha bichhadne se zara pahle....
Main qatra tha ya dariya tha bichhadne se zara pahle...

Na jaane kyun zamaane baad mujhko yeh khyaal aaya...
Main ek raushan sitaara tha bichhadne se zara pahle..

Phir uske baad aankhon me kabhi aansu nahi aaye...
Bahut tumne rulaya tha bichhadne se zara pahle..

Kisi ko kya pata main kyun thaka maanda sa rahta hun...
Main sheesha jaise toota tha bichhadne se zara pahle..

Muhabbat ki kahani me kai kirdaar aise the..
Jinhen main JaaN se pyara tha bichhadne se zara pahle..

تجھے احساس ہی کیا تھا بچھڑنے سے ذرا پہلے
میں قطرہ تھا یا دریا تھا بچھڑنے سے ذرا پہلے

نہ جانے کیوں زمانے بعد مجھ کو یاد آیا ہے
میں اک روشن ستارہ تھا بچھڑنے سے ذرا پہلے

پھر اس کے بعد آنکھوں میں کبھی آنسو نہیں آئے
بہت تم نے رلایا تھا بچھڑنے سے ذرا پہلے

کسی کو کیا خبر میں کیوں تھکا ماندہ سا رہتا ہوں
میں شیشہ جیسے ٹوٹا تھا بچھڑنے سے ذرا پہلے

محبت کی کہانی میں کئ کردار ایسے تھے
جنہیں میں جاں سے پیارا تھا بچھڑنے سے ذرا پہلے

M R Chishti

غزل- جہانگیر نایاب

.....................غزل........................... 

فتنے     ہزار    ہم    کو    سرِ    رہگزر      ملے
پھولوں  کی  تھی  تلاش  مگر سنگِ در   ملے

امن و اماں  کے  سائے    میں    بیدادگر    ملے
خود  اپنی  خواہشات  میں  الجھے بشر   ملے

مٹ جائیں سارے شکوے گلے شاید اب کی بار
جب  بھی  ملے ، ہم ان سے  یہی سوچ کر  ملے

مجرم  ہوں  ایک  میں  ہی یہ انصاف تو نہیں
چھوٹی  سی  اک  خطا  کی سزا عمر بھر  ملے
  
اپنے جہاں میں مست ہیں اس دور میں سبھی
فرصت   کسے   یہاں ، جو  کوئی  ٹوٹ کر ملے

کوشش  تو کی  سبھی  نے  بہت  اپنے طور پر
ساحل   ملا  کسی   کو ، کسی   کو  بھنور  ملے

پایا نہیں کسی کو بھی فتنوں  سے ہم  نے پاک
ہر    شعبئہ   حیات   میں      زیر  و  زبر    ملے

نایاب    میرا    کام    ہے  ،  کرتا   رہوں   تلاش
ممکن   نہیں   کہ   سب   کو    متاعِ   ہنر  ملے

                                              جہانگیرنایاب

غزل- منصور قاسمی

راہ حق پہ جان و دل سے ہم کو چلنا چاہیئے
دشمن اسلام سے ہرگز نہ ڈرنا چاہیئے

عظمت و رفعت ہمیں مل جائے گی ہے قول رب
شرط ہے دل صاحب ایمان بننا چاہیئے

یہ جہاں شمس و قمر جھک جائیں گے قدموں پہ سب 
پیکر اخلاق بھی ہم سب کو ہونا چاہیئے

گوش بر آواز ہو کہ وقت کہتا ہے ہمیں
ابن قاسم اور صلاح الدین بننا چاہیئے

خواہش جنت ہے جن کو اور رضائے مصطفی
دولت قرآن سینے میں بسانا چاہئیے

ہر جگہ ایمان کے کچھ راہزن موجود ہیں
دیکھ اے منصور تم ان سب سے بچنا چاہیئے

منصور قاسمی ، ریاض ،سعودی عرب

غزل -یوسف جمیل

روشنی کے گهر م لالے پڑ گئے
جب چراغ آندھی کے  پالے پڈ گئے
کیا  پتہ کیا بزم میں اس نے کہا
سوچ میں سب سننے والے پڑ گئے
کهانہ لے کے آئی ماں تو یوں لگا
خود بخود منہ میں نوالے پڑ گئے
جن میں بکتی تهیں دوائیں درد کی
ان دکانوں میں بھی تالے پڈ گئے
جگنوؤں سے گهر تھا روشن اس قدر
حیرتوں میں خود  اجالے پڈ گئے
شاخ پر تهے مختلف رنگوں کے پهوک
وقت بدلا تو وہ کالے پڈ گئے
انکے چہرے پر بهی آییں جهریاں
میری آنکھوں میں بھی جالے پڈ گئے
کس قدر نازک تھے یوسف اسکے پاوں
دو قدم چلنے میں چھالے پڈ گئے
:

یوسف جمیل یوسف اورنگ آبادی

تعزیتی کلمات - پروفیسر اسرائیل رضا

خراج عقیدت
معزز صدر مشاعرہ محترمہ نور جہاں جمشید پوری صاحبہ، ناظم مشاعرہ محترم جناب ایم آر چشتی صاحب اور بزم غزل کے اس عالمی آڈیو مشاعرہ میں شریک تمام شعرائے ذی وقار و با ذوق سامعین کرام، السلام علیکم!
جیسی کہ آپ سبهوں کو اطلاع ہے کہ اردو شعرو ادب کی دنیا میں بین الاقوامی شہرت کی حامل ایک مایہ ناز شخصیت اور  عظیم دانشور جناب زبیر رضوی کی روح عین اس وقت قفس عنصری سے پرواز کر گئ جبکہ وہ دہلی کی ایک تقریب میں تقریر فرما رہے تهے-انا لله وانالله راجعون-ع جو پرانے بادہ کش تهے وہ اٹهتے جاتے ہیں-ابهی ممتاز فکشن نگار عابد سہیل اور بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر ندا فاضلی کی اموات کا غم تازہ ہی تها کہ زبیر رضوی بهی داغ مفارقت دے گئے-
ہمہ جہت شخصیت کے مالک زبیر رضوی ایک ممتاز شاعر اور ڈرامہ نویس کے علاوہ ایک کامیاب اور مقبول عام ناظم مشاعرہ بهی تهے- لہذا ایسے وقت میں جبکہ اس آنلائن عالمی ادبی بلاگ "بزم غزل" کا یہ دسواں تاریخی اور دوسرا آڈیو مشاعرہ شروع ہونے جارہا ہے،سب سے پہلے ہم بزم غزل کی جانب سے ان تمام مرحومین کی ناگہانی اموات پر اپنے گہرے رنج وملال کا اظہار کرتے ہیں- ان سبهوں کے انتقال سے اردو زبان وادب کو جو عظیم خسارہ ہوا ہے شاید مستقبل قریب میں اس کی تلافی ممکن نہیں- الله رب العزت تمام مرحومین کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں درجات بلند کرے نیز پسماندگان وتمام متعلقین کو یہ اندوہناک غم برداشت کرنے کی قوت عطا فرمائے:
موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس
یوں تو دنیا میں سبهی آئے ہیں مرنے کے لئے-