جمعرات، 3 نومبر، 2016

کھائی:: انجمن اختر

ایک کوشش

*کھائ*

''کہاں جا رہی ہو بی، مرنا ہے کیا!"
کسی نے اچانک ہوری طاقت سے اسے پیچھے کھینچا.
وہ جیسے نیند سے جاگی.
"اتنی بڑی کھائ ہے، دکھتا نہیں کیا!"
راہگیر جنھجھلا کر بولا اور اپنے راستے بڑھ گیا.
لفظ 'کھائ'....
اس کے دماغ میں جھنجناہٹ سی ہوئ. کئ مختلف آوازیں فضا میں گونجنے لگیں. "تم جس راہ پہ چل پڑی ہو سیدھے کھائ میں گروگی."
"یہ راستہ منزل کی طرف نہیں کھائ کی طرف جاتا ہے."
"تم نے خود کھائ کاانتخاب کیا ہے. کبھی پلٹ کر وآپس مت آنا."
سچ ہے. بھلا کھائ میں گرنے کے باد کوئ واپس آیا ہے!!
وہ بھی تو نہیں پلٹ سکی تھی واپس.
ماڈلنگ کی چکاچوندھ دنیا سے جہاں شہرت اور بلندی کی گہری کھائ تھی.وہ جتنا اوپر اٹھتی گئ اتنی ہی زیادہ پستی اس کا مقدر بنتی چلی گئ. کھائ میں گرے بےجان وجود کی طرح اب اس کے بھی تمام احساس مر چکے تھے. فقط سانسوں کا بھاری بوجھ سینے پہ دھرا تھا.
اس نے ایک بار پھر کھائ کی طرف قدم بڑھا دیے.

*انجمن اختر*

منگل، 1 نومبر، 2016

نظم :: زارا فراز

*نظم :*
*عنوان : "صیاد"*
*تحریر : زارا فراز*

میرے صیاد
میں تیرے طلسمی دیس کی داسی ہوں
بہت دنوں، تیرے وجود کے گوشے میں
قید رہی
تم نے میرے پرواز کے پر
کاٹ ڈالے تھے
آج جب میرے نئے پر نکل آئے تو
تم نے بھی مجھے
آزادی کا پروانہ دے دیا
مگر قسمت کی ستم ظریفی دیکھو
میں اڑنا بھول چکی ہوں

نظم : کامران غنی صبا

*ایک نظم*
*آج کے اخبارات کی شہ سرخی سے متاثر ہو کر*

گھروں کے تالے
جب لکڑی کی جابی سے کھلیں
اور اسٹیل کے برتن سے قتل عام ہو
تو جان لو
خطرہ ہی خطرہ ہے
یقیناً گھر کے اندر ہی
کوئی تو ہے
جو گھر کے راز کو
چادر کے کونے میں دبا کر
آہنی دیوار سے باہر
گھما کر پھینک دیتا ہے
اور اس کے بعد
اخباروں کے پہلے پیج پر
گھر کی تباہی کے
بڑے دلدوز منظر رقص کرتے ہیں
ہمارے گھر کو خطرہ ہے
مکیونوں سے کمینوں سے

کامران غنی صبا

نظم:: بے چہرہ وجود کی غرض

*تحریر :--- زارافراز*

*"بے چہرہ وجود کی غرض"*

ٹھہرو میں تم کو اس کی کہانی سناتی ہوں
وہ کیوں تمہاری ذات کا حصہ بننا چاہتی ہے
" یہ تو پرانی بات ہے کہ
انسان کچھ پانے کی تلاش میں
اپنے "میں " کو کھو دیتا ہے
اس نے بھی خود کو کھو دیا ہے
مگر اب وہ اردو زبان کے بازو تھامے،
لفظوں کے بازار کی روشن پیشانی جیسی شبنمی زمین پر
دو زانوں بیٹھی،شہر ذات کی گویائی
چن رہی ہے
اس کی ذات میں پہلا ادراک
ان کٹی ہوئی انگلیوں کی قسمت کا ہوا
جو قلم اٹھانے کے جرم میں
جسم سے جدا کر دی گئیں تھیں
اس کی آنکھیں اب بھی سلامت ہیں
وہی اس کی گہری دوست بھی ہیں
وہ ان دوست آنکھوں سے
کہانیوں کے " کالبد" کو
چھونا چاہتی ہے
اور شاید تمہاری ذات میں پنپ کر
اپنا " پہلا جنم " کا
استحصال چاہتی ہے
اب وہ اس اعتراف سے نہیں ڈرتی
کہ
اس نے چاہت میں
غرض کو شامل کر لیا ہے
یہ وہی ہے جو نقاب رخ سے
چہرہ اتار کر
بے چہرہ وجود کے ساتھ
تمہارے سامنے کھڑی
تم سے آنکھیں ملا ک
بات کرتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔