پیر، 14 مارچ، 2016

غزل

زندگی درد کا سفر ہے یار
ہر کوئی اس سے بے خبر ہے یار

اک طرف زخم ہیں حقیقت کے
اک طرف خواب کا نگر ہے یار

خود سے بیزار ہو گیا ہوں میں
جانے کس بات کا اثر ہے یار

مجھکو اس سے نہیں کوئی مطلب
بولتا ہوں سدا۔مگر ہے یار

جانے کیوں مجھکو لیسا لگتا ہے
گھر کے اندر بھی ایک گھر ہے یار

وہ جو سب پہ یقین کرتا ہے
آدمی ہے کہ جانور ہے یار

انعام عازمی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں