اب اپنی ذات سے بھی جدا ہو گیا ہوں میں
میں سوچنے لگا ہوں کہ کیا ہو گیا ہوں
الجھا ہوں زندگی کے مسائل میں آج کل
کچھ لوگ سوچتے ہیں خفا ہو گیا ہوں میں
میں زہر ہوں یہ بات بتائی تھی آپ نے
اب کیسے کیا ہوا کہ دوا ہو گیا ہوں میں
الزام آئینوں پہ لگانا فضول ہے
میں جانتا ہوں سچ میں برا ہو گیا ہوں میں
سب کر رہے ہیں میری حمایت اسی لئے
خود کی مخالفت میں کھڑا ہو گیا ہوں میں
انعام عازمی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں