اتوار، 13 مارچ، 2016

غزل

اب اپنی ذات سے بھی جدا ہو گیا ہوں میں
میں سوچنے لگا ہوں کہ کیا ہو گیا ہوں

الجھا ہوں زندگی کے مسائل میں آج کل
کچھ لوگ سوچتے ہیں خفا ہو گیا ہوں میں

میں زہر ہوں یہ بات بتائی تھی آپ نے
اب کیسے کیا ہوا کہ دوا ہو گیا ہوں میں

الزام آئینوں پہ   لگانا   فضول   ہے
میں جانتا ہوں سچ میں برا ہو گیا ہوں میں


سب کر رہے ہیں میری حمایت اسی لئے
خود کی مخالفت میں کھڑا ہو گیا ہوں میں

انعام عازمی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں